نیٹو کے رکن ممالک کو دفاعی اخراجات میں تاریخی اضافے کے باوجود ہتھیاروں کی پیداوار میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آئندہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں اس مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جہاں سربراہان اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ صرف مالی وسائل کافی نہیں، بلکہ ان رقم کو جلد از جلد جنگی صلاحیتوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نہ ڈالر اور نہ ہی یورو کسی میزائل یا ٹینک کو روک سکتے ہیں، اس لیے دفاعی پیداوار میں تیزی لانا مشترکہ ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل اسٹارمر حکومت کو بڑا دھچکا، برطانوی وزیرِ دفاع مستعفی
گزشتہ سال یورپ اور کینیڈا نے اپنے دفاعی بجٹ میں مجموعی طور پر 90 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، تاہم اس سرمایہ کاری کو عملی عسکری طاقت میں تبدیل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
روس، یوکرین جنگ نے یورپ کی دفاعی پیداوار کی کمزوریاں نمایاں کردی ہیں۔ کئی اہم ہتھیاروں کی تیاری میں طویل وقت درکار ہوتا ہے، جبکہ بعض ضروری دفاعی صلاحیتوں کی بھی کمی ہے۔
دوسری جانب ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکا کے اسلحہ ذخائر بھی متاثر ہوئے، جس سے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
یورپی یونین کے دفاعی کمشنر اینڈریئس کوبیلیئس نے کہا کہ اضافی فنڈز اکٹھے کرنا تو سیکھ لیا گیا ہے، مگر اب انہیں مؤثر انداز میں خرچ کرنا ضروری ہے تاکہ یورپ پیداوار، جدت اور عسکری صلاحیت میں روس سے آگے نکل سکے۔
یورپی دفاعی صنعت کی تنظیم اے ایس ڈی کے سیکریٹری جنرل کیمل گرینڈ کے مطابق کئی دفاعی کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کررہی ہیں، تاہم مطلوبہ سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس، شمالی کوریا اور ایران مل کر کام کررہے ہیں، نیٹو چیف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت یورپ کو کسی بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو فضائی دفاعی میزائل جیسے اہم ہتھیار چند ہی دنوں میں ختم ہوسکتے ہیں۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق 2022 میں گولہ بارود کی سالانہ پیداوار 3 لاکھ تھی، جسے بڑھا کر 20 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، لیکن طویل جنگ کے لیے یہ بھی ناکافی ہے۔
یورپی یونین دفاعی صنعت میں اصلاحات کی کوشش کررہی ہے، تاہم 27 رکن ممالک کے الگ الگ قوانین اور قومی دفاعی منڈیاں اس عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
متعدد ممالک اپنی مقامی دفاعی کمپنیوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث مشترکہ یورپی دفاعی منڈی کا قیام سست روی کا شکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ دفاعی پیداوار کے حوالے سے یوکرین سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ مسلسل جنگ کے باوجود یوکرین نے لاکھوں ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے، جبکہ یورپی صنعت جدید مگر مہنگے اور محدود تعداد میں تیار ہونے والے ہتھیار بنانے پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹو اتحادیوں کا ٹرمپ کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار
اسی وجہ سے اب متعدد یورپی دفاعی کمپنیاں یوکرینی اداروں کے ساتھ شراکت داری کررہی ہیں تاکہ جنگی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق یوکرین کی دفاعی صنعت کو یورپی نظام میں شامل کرنا مستقبل کی سلامتی کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری ثابت ہوسکتا ہے۔














