لاہور سانحہ: ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، غیر رجسٹرڈ اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کی شام قریباً ساڑھے 4 بجے ایک المناک سانحہ پیش آیا، جہاں ایک رہائشی عمارت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی ٹیوشن سنٹر کی چھت اچانک گر گئی۔ اس حادثے میں 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کے وقت کلاس میں 30 سے زائد بچے موجود تھے۔ بچوں کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر 9 سال سے کم عمر تھے۔ ایک خاتون استاد سمیت متعدد بچے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کا کام شروع کردیا۔ ابتدائی طور پر کئی بچوں کی حالت تشویشناک تھی، جبکہ بعد ازاں اسپتالوں میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔

مزید پڑھیں:کیا سوشل میڈیا ذاتیات پر حملے کا پلیٹ فارم ہے ؟

پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجوہات میں عمارت کی خستہ حالی، اوپری منزل پر جاری مرمتی کام اور چھت پر ضرورت سے زیادہ وزن شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ ٹیوشن سنٹر ایک نجی رہائشی مکان میں بغیر رجسٹریشن کے چلایا جا رہا تھا۔ اس نوعیت کے ٹیوشن سنٹر لاہور سمیت پنجاب بھر میں بڑی تعداد میں قائم ہیں، جہاں بچے اسکول کے بعد اضافی تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاہم ان عمارتوں کے حفاظتی معیار اور تعمیراتی ضوابط پر اکثر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

حکومت پنجاب کا فوری ردِعمل اور اعلان کردہ اقدامات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے دل دہلا دینے والا المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 معصوم جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی سانحہ ہے اور ان کا دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیوشن سنٹر غیر رجسٹرڈ تھا اور ایک نجی رہائشی عمارت میں ناقص چھت کے نیچے چلایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر غفلت، لاپرواہی یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید پڑھیں:لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، 14 بچے جاں بحق، مالک مکان زیر حراست

غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کے خلاف کارروائی

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے مون سون کے موسم سے قبل غیر محفوظ اور خستہ حال عمارتوں کا جامع سروے کرانے اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز و نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ سخت قواعد و ضوابط متعارف کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مکان کے مالک سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سانحے کے بعد کی صورتحال

اس المناک واقعے نے لاہور بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ والدین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھیں:یونیورسٹی آف لاہور نے آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمنز فٹبال چیمپیئن شپ جیت لی

ماہرین تعلیم اور شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بغیر مناسب اجازت اور حفاظتی معیار کے تعلیمی ادارے چلانا ناقابلِ قبول ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے غیر محفوظ عمارتوں کے سروے، غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت ضوابط نافذ کرنے کے اعلانات اگر مؤثر انداز میں عملی جامہ پہن گئے تو مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp