کیمرے کے سامنے طلاق دینے کی ویڈیو وائرل، معروف ٹک ٹاکر پر سابق اہلیہ کے سنگین الزامات

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی نے اپنی سابق اہلیہ کی جانب سے لگائے گئے جسمانی تشدد اور دھمکیوں کے الزامات پرردِعمل دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں علی حیدرآبادی اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے بعد ان کی سابق اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ علی نے ان پر تشدد کیا اور ان کی انگلی فریکچر کر دی۔ ان الزامات کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا۔

علی حیدرآبادی نے ایک ویڈیو پیغام میں ہاتھ میں قرآنِ پاک اٹھا کر اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو خاندانی تنازع سمجھتے ہوئے خاموش رہنا چاہتے تھے تاہم ان کے خلاف لگائے گئے الزامات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے بعد وضاحت دینا ضروری ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ وائرل ہونے والی طلاق کی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی سابق اہلیہ پر کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ ویڈیو اس خدشے کے پیشِ نظر ریکارڈ کی تھی کہ مستقبل میں ان کے خلاف کوئی غلط دعویٰ یا بلیک میلنگ کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے قرآنِ پاک کی قسم اٹھاتے ہوئے کہا کہ نہ انہوں نے اپنی سابق اہلیہ کو مارا اور نہ ہی ان کی انگلی توڑی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by TOK DIGITAL NEWS (@timesofkandiaro)

علی حیدرآبادی کا کہنا تھا کہ ویڈیو کے آخر میں ان کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی کیونکہ وہ ریکارڈنگ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ویڈیو شروع ہونے سے پہلے ہی ان کا سامان پیک کر دیا گیا تھا اور انہیں گھر چھوڑنے کے لیے کہا جا چکا تھا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگرچہ وہ اپنی اہلیہ کے گھر میں رہ رہے تھے، لیکن یہ فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے مختلف مقامات پر رہائش کا انتظام کیا، تاہم ان کی اہلیہ کسی بھی جگہ منتقل ہونے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سالہ ازدواجی زندگی میں متعدد اختلافات ضرور رہے لیکن انہوں نے ہمیشہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: طلاق کے بعد رجب بٹ کا بڑا اعلان، دوسری شادی پر خاموشی توڑدی

دھمکیوں کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے علی حیدرآبادی نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی سابق اہلیہ کو دھمکی نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اگر کسی بھی متعلقہ ادارے نے انہیں طلب کیا تو وہ اپنے مؤقف کے حق میں تمام دستیاب شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp