سائنسدانوں نے حیاتیات کے میدان میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسے مصنوعی خلیے تیار کر لیے ہیں جو لیبارٹری میں بنائے گئے ڈی این اے کی مدد سے بڑھنے، خوراک حاصل کرنے اور تقسیم ہو کر نئی نسل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کامیابی انسان کے ڈی این اے میں لکھی ہوتی ہے؟ نئی تحقیق نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا
یہ تحقیق امریکی ریاست مینیسوٹا یونیورسٹی کی ٹیم نے کی ہے جس میں تیار کیے گئے ان مصنوعی خلیوں کو ’اسپڈ سیلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا نظام ہے جو مکمل سیل سائیکل یعنی نشوونما، جینیاتی نقل اور تقسیم کے مراحل کو انجام دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی خلیے غیر جاندار کیمیائی اجزا سے تیار کیے گئے ہیں جبکہ ان میں تقریباً 150 سے 200 مالیکیولز اور 90 ہزار بیس پیئرز پر مشتمل جینوم شامل ہے۔ یہ خلیے ایک مائع ماحول میں موجود رہ کر ’فیڈر لائپوسومز‘ سے ضروری غذائی اور توانائی کے اجزا حاصل کرتے ہیں، جن کی مدد سے یہ پروٹین بنانے اور خود کو بڑھانے کے قابل ہوتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کیٹ ایڈامالا کے مطابق یہ پیشرفت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ زندگی کے آغاز کے لیے کسی ’پراسرار حیاتیاتی چنگاری‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ زندگی کے بنیادی افعال جیسے نشوونما اور تقسیم، مکمل طور پر کیمیائی اجزا سے بھی ممکن ہیں۔
مزید پڑھیے: ڈی این اے تحقیق میں انقلاب کی کوشش، گوگل ڈیپ مائنڈ نے نیا اے آئی ماڈل بنالیا
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ خلیے قدرتی خلیوں کے مقابلے میں کمزور اور محدود ہیں اور زیادہ سے زیادہ چند نسلوں تک ہی تقسیم ہو سکتے ہیں تاہم یہ مستقبل میں مصنوعی حیات کے امکانات کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مصنوعی خلیے قدرتی خلیوں کی طرح خود مختار نہیں اور اپنی بقا کے لیے بیرونی ماحول پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ ان میں نہ تو اپنا میٹابولزم ہے اور نہ ہی یہ خود سے فضلہ ختم کر سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد زندگی کے بنیادی اصولوں کو بہتر طور پر سمجھنا ہے تاکہ مستقبل میں ادویات سازی، توانائی، ماحولیات اور صنعتی پیداوار جیسے شعبوں میں ان خلیات کو استعمال کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے مصنوعی نظاموں کی بنیاد بن سکتی ہے جو ادویات، کیمیکل، خوراک اور ایندھن بنانے میں مددگار ہوں گے جبکہ اس سے یہ سمجھنے میں بھی مدد ملے گی کہ بے جان مادہ کس طرح زندگی کی شکل اختیار کرتا ہے۔
تاہم بعض ماہرین نے اس پر سوال بھی اٹھائے ہیں کہ آیا یہ مصنوعی خلیے واقعی زندگی کے بنیادی تصور کو سمجھنے میں مدد دیں گے یا نہیں کیونکہ اصل جاندار نظاموں میں باہمی تعلقات اور پیچیدہ حیاتیاتی روابط بھی شامل ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ فورینزک ڈی این اے لیبارٹری کا نیا اعزاز کیا ہے؟
محققین نے اس منصوبے کے لیے ایک عالمی ادارہ بایوٹک قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا اور عالمی سطح پر سائنسی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔














