وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن دوہرے زلزلوں کے 8 روز بعد امدادی کارکنوں نے ایک شخص کو ملبے تلے سے زندہ نکال کر ایک غیرمعمولی ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا۔ 140 ٹن ملبے کے نیچے پھنسے ہرنان گل کو متعدد ممالک کے امدادی اہلکاروں نے انتہائی پیچیدہ کارروائی کے بعد بحفاظت باہر نکالا، جبکہ اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ہرنان گل نامی شخص کو اس وقت نکالا گیا جب امدادی کارکن اسے ملبے کے نیچے موجود ہونے کا سراغ لگانے کے 100 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد اس تک محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس دوران وہ تقریباً 140 ٹن ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔
چلی سے تعلق رکھنے والے ایک فائر فائٹر نے اس کارروائی کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ’سب سے پیچیدہ اور تکنیکی اعتبار سے مشکل ریسکیو آپریشن‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے وینزویلا زلزلے سے فٹبالر لوکاس تریجو کا ہنستا کھیلتا خاندان اجڑ گیا، اہلیہ اور2 معصوم بچے جاں بحق
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی شام تک زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 595 ہو چکی تھی، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
کوسٹا ریکا کی ریڈ کراس سے وابستہ پیرا میڈک ایلن مادریگال، جنہوں نے سب سے پہلے ملبے سے ہرنان گل کی مدھم آواز سنی تھی، نے بتایا کہ انہیں پہلے یقین ہی نہیں آیا کہ واقعی کوئی زندہ ہے، اس لیے انہوں نے اپنے ساتھی سے آواز کی تصدیق کروائی۔
انہوں نے اس لمحے کو انتہائی جذباتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آواز کی تصدیق ہوتے ہی امدادی ٹیموں نے ہرنان گل تک پہنچنے کے لیے دن رات ایک کر دیے۔
ہرنان گل زلزلے کے وقت کاتیا لا مار کے علاقے میں واقع گیلیریاس پلایا گرانڈے شاپنگ مال سے ملحقہ پارکنگ ایریا کے تہہ خانے میں موجود ایک چھوٹے سے کنکریٹ کے سیکیورٹی بوتھ میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ حکام کے مطابق یہی مضبوط ڈھانچہ ان کے لیے حفاظتی خول ثابت ہوا اور 140 ٹن ملبہ گرنے کے باوجود وہ محفوظ رہے۔
ریسکیو کارروائی کے دوران امدادی کارکن ایک چھوٹے سوراخ کے ذریعے انہیں پانی فراہم کرتے رہے، جبکہ طبی عملے نے انہیں ڈرپ بھی لگائی تاکہ جسم میں پانی اور ضروری غذائیت کی کمی نہ ہو۔ اس کارروائی میں وینزویلا، چلی، کوسٹا ریکا، ایل سلواڈور، میکسیکو، پرتگال اور امریکا سے تعلق رکھنے والی امدادی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
امدادی کارکنوں نے ہرنان گل تک پہنچنے کے لیے کئی سرنگیں اور راستے بنائے، تاہم ان میں سے بعض حصے کئی بار منہدم بھی ہوئے، جس سے ریسکیو اہلکاروں اور متاثرہ شخص دونوں کی جان کو مسلسل خطرات لاحق رہے۔
یہ بھی پڑھیے وینزویلا: بیٹے کی تلاش میں دربدر ماں کی جستجو موت کے ساتھ ختم ہو گئی
آخرکار بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امدادی ٹیمیں ایک باریک کیمرے کے ذریعے ہرنان گل کو براہ راست دیکھنے میں کامیاب ہوئیں۔ ویڈیو میں ایک چلی کے فائر فائٹر کو انہیں کیمرے کی طرف چہرہ موڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ان کی ایک آنکھ سرخ ہو چکی تھی جبکہ انہوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا، جو امدادی کارکنوں نے پہلے ہی دھول اور ملبے سے بچانے کے لیے انہیں فراہم کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں حفاظتی چشمہ بھی پہنایا گیا تاکہ آنکھوں کو مزید نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
میکسیکو ریڈ کراس کے رکن مارکو انتونیو فرانکو نے بتایا کہ ہرنان گل پوری آزمائش کے باوجود حوصلے میں تھے اور مسلسل امدادی کارکنوں سے گفتگو کرتے رہے۔ ان کے بقول متاثرہ شخص نے اپنی پسند کے ذائقے والے ہائیڈریشن ڈرنکس کی فرمائش بھی کی، جسے ٹیم نے فوراً پورا کیا۔
مارکو انتونیو فرانکو نے بتایا کہ ہرنان گل خود بھی ریسکیو اہلکاروں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور بار بار کہتے تھے کہ کوشش جاری رکھیں۔ وہ مختلف ٹیموں کے ارکان کو پہچان لیتے اور ان کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔
ریسکیو ٹیم کے مطابق کارروائی کے دوران ہرنان گل اپنی فیملی، زندگی اور جاری امدادی آپریشن کے بارے میں مسلسل بات چیت کرتے رہے، جس سے ان کے حوصلے اور ذہنی استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ادھر کوسٹا ریکا کے پیرا میڈک ایلن مادریگال، جو اپنی پہلی بین الاقوامی امدادی مہم پر وینزویلا آئے تھے، نے کہا کہ اس تجربے نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔














