معاشی اشاریے مثبت، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بیرونی قرض کا دباؤ بھی کم ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کاروباری برادری کی مشترکہ کوششوں سے ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مثبت معاشی اشاریوں کے باعث پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:5 ارب ڈالر ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں معاشی نمو کا سلسلہ برقرار رہے گا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اقتصادی ترقی بھی اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کے مطابق رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد رہی اور مجموعی سالانہ افراطِ زر بھی توقعات کے مطابق رہی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث مہنگائی معمول سے کچھ زیادہ رہی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2022 میں 17.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا، جو اس وقت مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً چار فیصد کے برابر تھا، تاہم مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے اور بارہویں ماہ کے اعداد و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پورے مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر اضافے کے بعد 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ اس دوران 5 ارب ڈالر کے واجبات بھی کم کیے گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ چار برس کے مقابلے میں بیرونی قرض تقریباً مستحکم رہا ہے اور ملک کے پاس درآمدات کے لیے درکار ذخائر سے کئی گنا زیادہ زرِمبادلہ موجود ہے، جو عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔

جمیل احمد نے بتایا کہ قلیل مدتی کمرشل قرضوں کو طویل مدتی کثیرالجہتی قرضوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے قرضوں کی اوسط مدت بہتر ہوئی ہے اور بیرونی قرضوں پر سود کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ یورو بانڈ بھی بہتر شرائط پر جاری کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2015 سے 2022 تک پاکستان کا بیرونی قرض ہر سال اوسطاً 6 ارب ڈالر بڑھ رہا تھا، تاہم 2022 کے بعد بیرونی قرض میں اضافہ نہیں ہوا، جو معاشی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے زرمبادلہ کے دو اہم ترین ذرائع ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 26-2025 میں ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جبکہ آئندہ مالی سال میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹیٹ بینک نے قانونی جواز کے بغیر بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود اندازہ تھا کہ ترسیلاتِ زر میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 200 ڈالر سے زائد کی ترسیلات پر تمام بینکاری اخراجات متعلقہ بینک برداشت کریں گے تاکہ قانونی ذرائع سے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ ’سونی دھرتی اسکیم‘ کو ختم کرکے اس کی جگہ ایک نئی اور بہتر اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں انعامات بھی شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے، کیونکہ جب تک برآمدات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا، ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپ میں شدید گرمی سے ہلاکتیں 3,700 سے متجاوز، فرانس، بیلجیم اور ہالینڈ سب سے زیادہ متاثر

اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع، 6 امیدوار میدان میں، پہلی خاتون سیکریٹری جنرل بننے کا امکان بھی زیر بحث

خطے کا بڑا توانائی منصوبہ، عراق اور اردن نے تعاون بڑھانے اور پائپ لائن جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا

ٹول پلازہ پر ایل پی جی ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا، 5 افراد ہلاک، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

ویڈیو کال کے دوران ہوٹل میں 26 سالہ خاتون کی موت، اہلِ خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کر دیا

ویڈیو

خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو