امریکی خلائی ادارے ناسا نے گرتی ہوئی سوئفٹ آبزرویٹری دوربین کو بچانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا منفرد ریسکیو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا۔ سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث مشن کو گزشتہ روز مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم جمعہ کو اسے کامیابی کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔
یہ مشن ناسا کی پرانی سوئفٹ آبزرویٹری کو بچانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جو گاما شعاعوں کے دھماکوں سمیت انتہائی طاقتور کائناتی مظاہر کا مشاہدہ کرتی ہے۔ بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی کے باعث فضائی مزاحمت میں اضافے سے دوربین کا مدار مسلسل کم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسے زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا خلائی دوربین کو بچانے کے لیے روبوٹک مشن، لانچنگ خراب موسم کے باعث مؤخر
ناسا کے انجینئرز کے مطابق دوربین کو بچانے کے لیے ایک سال سے بھی کم وقت باقی تھا، کیونکہ اگر اس کا مدار 186 میل سے نیچے آ جاتا تو اسے بچانا ممکن نہ رہتا۔
مشن کے لیے ناسا نے کیٹالسٹ اسپیس کمپنی کو معاہدہ دیا، جس کے تحت لنک نامی روبوٹک خلائی گاڑی کو نارتھروپ گرومن کے پیگاسس راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔

لنک خلائی گاڑی اپنے تین متحرک بازوؤں کی مدد سے سوئفٹ دوربین کو مدار میں پکڑے گی اور اسے موجودہ مقام سے تقریباً 300 کلومیٹر بلند مدار میں منتقل کرے گی۔
منصوبے کے مطابق خلائی گاڑی ابتدائی چند ہفتوں تک اپنے تمام نظاموں کی جانچ اور مطلوبہ پوزیشن حاصل کرے گی، جس کے بعد وہ دوربین کے گرد چکر لگا کر اس کی حالت کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد تینوں بازوؤں کی مدد سے دوربین کو مضبوطی سے تھام کر اپنے تھرسٹرز کے ذریعے نہایت احتیاط سے اسے دوبارہ 373 میل کی اصل اور محفوظ بلندی تک پہنچایا جائے گا۔
ناسا کے مطابق اس پورے ریسکیو آپریشن میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا اپنی دیوہیکل خلائی دوربین کو بچانے کے لیے کوشاں، امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی سے مدد لے لی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہے، تاہم کامیابی کی صورت میں خلائی سیارچوں اور دوربینوں کو مدار میں بچانے اور ان کی مرمت کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد مستقبل میں ہبل خلائی دوربین سمیت دیگر اہم خلائی اثاثوں کو بھی اسی طرز پر محفوظ رکھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
خلائی سائنس دان ڈاکٹر سائمون باربر نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پرخطر مشن ہے، لیکن ناسا کا خیال ہے کہ یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے، کیونکہ سوئفٹ دوربین ایسے انتہائی طاقتور کائناتی مظاہر کا مشاہدہ کرتی ہے جن کا مطالعہ کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔













