ہر کام کے لیے گاڑی کیوں؟ روبینہ اشرف کی پاکستانیوں کو پیدل چلنے کی تلقین

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر اداکارہ روبینہ اشرف نے پاکستانی معاشرے، شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کلچر اور طرز زندگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گاڑیوں پر حد سے زیادہ انحصار، ناقص شہری منصوبہ بندی اور کمزور شہری ثقافت نے عام شہریوں، خصوصاً پیدل چلنے والوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیسہ بنانے اور بچانے کے لیے اداکارہ روبینہ اشرف نے کیا طریقہ اپنایا؟

ایک انٹرویو میں روبینہ اشرف نے کراچی اور لاہور کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی خوبصورتی اور شہری ترقی قابل تعریف ہے جبکہ کراچی میں پیدل چلنے والوں کے لیے حالات انتہائی نامساعد ہیں۔

روبینہ اشرف کے مطابق اب مختصر فاصلے پیدل طے کرنا بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چند قدم کے فاصلے پر کسی دکان تک جانا ہو تو بھی یہ سوچنا پڑتا ہے کہ بیگ ساتھ لے کر جانا محفوظ ہوگا یا نہیں کیونکہ چھینے جانے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا ماحول میسر نہیں۔

روبینہ اشرف نے کراچی کی شہری منصوبہ بندی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہر میں پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب فٹ پاتھ تقریباً ناپید ہیں۔ ان کے مطابق پوش علاقوں میں بھی جہاں فٹ پاتھ بنائے گئے ہیں وہاں سڑکیں اتنی تنگ ہیں اور ان پر گاڑیوں کی پارکنگ کے نتیجے میں بھی پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ باقی نہیں رہتی۔

روبینہ اشرف نے کہا کہ پاکستان ایک ’زہریلے کار کلچر‘ کا شکار ہو چکا ہے جہاں لوگ مختصر فاصلے بھی گاڑی کے ذریعے طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میرا کوئی دوست چند قدم کے فاصلے پر رہتا ہے تو مجھے گاڑی استعمال کرنے کے بجائے جوتے پہن کر پیدل جانا چاہیے اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: میری عمر پر تنقید چھوڑیں اور کچھ نیا سوچیں، لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری کا ناقدین کو مشورہ

انہوں نے پاکستان میں مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ کلچر کی عدم موجودگی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہذب معاشرے میں اداکاروں، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کا بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنا معمول کی بات ہونی چاہیے۔

روبینہ اشرف نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مقامات کو دوبارہ اپنے استعمال میں لائیں اور زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت اپنائیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ گھر سے نقد رقم نہ لے جائیں، صرف کارڈ ساتھ رکھیں اور پیدل چلنا شروع کریں۔ اگر زیادہ لوگ سڑکوں پر آئیں گے تو بالآخر نظام کو ایسے شہر بنانے پر مجبور ہونا پڑے گا جو گاڑیوں کے بجائے انسانوں کے لیے بنائے گئے ہوں۔

گفتگو کے دوران انہوں نے شوبز انڈسٹری سے وابستہ نوجوانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ صرف شہرت حاصل کرنے کے مقصد سے اس شعبے میں قدم نہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا مقصد صرف مشہور ہونا ہے تو اس شعبے میں مت آئیں۔ یہاں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو سیکھنے، معیاری فن تخلیق کرنے اور محنت کے ساتھ کام کرنے کے لیے آتے ہیں۔

روبینہ اشرف کا کہنا تھا کہ ٹیلی وژن اور فلم کی دنیا کوئی مذاق نہیں اور اس صنعت کو بنانے والے سینیئر فنکاروں نے بے پناہ محنت کی ہے اس لیے کامیابی کے لیے نظم و ضبط اور محنت ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: ہنسی، مذاق کی اجازت نہیں تھی، بشریٰ انصاری نے شادی کے بعد سسرال میں پہلی عید کے تلخ تجربات بیان کردیے

انہوں نے اخلاقی اقدار کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید سماجی رجحانات کی آڑ میں صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا جی صحیح اور غلط کے درمیان لکیر آج بھی واضح ہے لہٰذا غلط رویوں کو جدید سوچ کے نام پر جائز قرار نہیں دینا چاہیے۔

روبینہ اشرف نے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رات گئے تک سوشل میڈیا استعمال کرنا اگلے دن کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اپنے روزانہ کے اسکرین ٹائم کا جائزہ لینا چاہیے۔ رات کو ڈیڑھ 2 گھنٹے تک موبائل استعمال کرنا ہی اس بات کی وجہ بنتا ہے کہ اگلے دن لوگ عین وقت پر اٹھتے ہیں اور سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

روبینہ اشرف نے لوگوں کو ’بیک ورڈ ٹائمنگ‘ کا اصول اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کام کی منصوبہ بندی منزل تک پہنچنے کے وقت کو سامنے رکھ کر الٹی سمت میں کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 10 پاکستانی ڈرامے کون سے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو دوپہر 12 بجے کہیں پہنچنا ہے تو پہلے یہ حساب لگائیں کہ تیار ہونے، جاگنے اور دیگر کام مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ بطور قوم ہم نے ابھی تک اس طرز فکر کو نہیں اپنایا جبکہ ہمیں اس کی اشد ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟