میٹا نے اپنے واٹس ایپ بزنس پلیٹ فارم کے لیے نئے قیمتوں کے نظام کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات، خصوصاً جنریٹو اے آئی، کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مطابق بلنگ کے نظام کو ہم آہنگ بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق یکم اگست 2026 سے وہ کاروباری ادارے جو میٹا بزنس ایجنٹ استعمال کرتے ہیں، انہیں فی پیغام فیس کے بجائے ٹوکن بیسڈ پرائسنگ کے تحت ادائیگی کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ یوزرنیم: جعلسازی اور اہم شخصیات سے ملتے جلتے نام رکھے جانے کے خدشات بڑھ گئے
نئے نظام کے تحت کاروباری صارفین ہر بھیجے جانے والے پیغام پر یکساں فیس ادا کرنے کے بجائے اس ڈیٹا کے مطابق ادائیگی کریں گے جسے مصنوعی ذہانت صارف کے سوالات یا درخواستوں پر کارروائی کے دوران استعمال کرے گی۔
WhatsApp will implement a token-based pricing structure for businesses using its Meta Business Agent starting August 1, replacing the current per-message billing.https://t.co/r0Li2T5YO0
— The CSR Journal (@thecsrjournal) July 2, 2026
میٹا کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ اے آئی کی جانب سے صارف کی درخواست کو سمجھنے اور اس پر کارروائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹوکنز کی اصل لاگت کی بہتر عکاسی کی جا سکے، کیونکہ اب مصنوعی ذہانت کسٹمر سپورٹ اور فروخت میں پہلے سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2026 سے بعض کاروباری پیغامات پر دوبارہ فیس وصول کی جائے گی، جسے تقریباً 2 سال قبل عارضی طور پر معاف کر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، پرائیویسی بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف
میٹا کے تخمینے کے مطابق ایک عام صارف سے ہونے والی گفتگو میں تقریباً 20 ہزار سے 25 ہزار ٹوکنز استعمال ہوتے ہیں، جس کی لاگت تقریباً 4 سے 5 امریکی سینٹ فی پیغام بنتی ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ روایتی واٹس ایپ بزنس قیمتوں کے برعکس، جہاں مختلف ممالک کے لیے الگ الگ نرخ مقرر ہوتے ہیں، میٹا بزنس ایجنٹ کے لیے ٹوکن کی شرح دنیا بھر میں یکساں ہوگی۔ اس فیس میں اے آئی پروسیسنگ اور پیغام کی ترسیل دونوں شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’یونیورسل ویکسین‘ کا انسانوں پر پہلا کامیاب تجربہ
رپورٹ کے مطابق میٹا کا یہ نیا قیمتوں کا ماڈل مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے انٹرپرائز بلنگ ماڈلز سے مشابہت رکھتا ہے۔
میٹا کا مقصد واٹس ایپ بزنس کو صرف پیغام رسانی کے پلیٹ فارم کے بجائے ایک مکمل اے آئی پر مبنی خودکار کسٹمر انگیجمنٹ پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: میٹاواٹس ایپ بغیر کھولے وائس نوٹس بھیجنے کی سہولت کا امکان
میٹا بزنس ایجنٹ کاروباری اداروں کے لیے ممکنہ گاہکوں کی نشاندہی، اپائنٹمنٹس کی بکنگ، معمول کی کسٹمر سپورٹ اور دیگر کاروباری گفتگو کو خودکار انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق چھوٹے کاروباروں کو یہ سہولت واٹس ایپ بزنس پریمیم کی مخصوص سبسکرپشن سطحوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ بڑے کاروباری اداروں سے صرف استعمال ہونے والے ٹوکنز کی بنیاد پر فیس وصول کی جائے گی۔














