روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کونسٹنٹینووکا پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جسے ڈونیٹسک ریجن میں یوکرین کے مضبوط ترین دفاعی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس پیشرفت کو جنگ میں ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے سرحدی حفاظتی زون مزید وسیع کرے گا۔
رائٹرز کے مطابق روسی فوج نے صدر پیوٹن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ روسی افواج نے کونسٹنٹینووکا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو ڈونیٹسک کے راستے روسی پیش قدمی کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم ہدف تھا۔ کریملن کی جانب سے جاری ویڈیوز میں صدر پیوٹن کو ایک فوجی کمانڈ پوسٹ پر اعلیٰ عسکری قیادت سے جنگی صورتحال پر بریفنگ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:’روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا‘، کیف اور اس کے حامیوں کو روسی صدر کا سخت انتباہ
روسی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف نے بتایا کہ جنوبی محاذ پر تعینات روسی افواج ڈونیٹسک کے پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کونسٹنٹینووکا یوکرین کے دفاعی نظام کا ایک اہم مرکز تھا، جس پر قبضہ روسی فوج کے لیے بڑی کامیابی ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ کونسٹنٹینووکا ڈونباس کا ایک اہم صنعتی اور ٹرانسپورٹ مرکز ہے، جس پر کنٹرول روسی فوجی کارروائیوں کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں، خصوصاً تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کے جواب میں روس کو مزید وسیع حفاظتی زون قائم کرنا ہوں گے۔
In order to cover Ukraine's catastrophic loss of the crucial city of Konstantinovka in Donbass-
Western client media has spent the last 2 weeks telling you "Ukraine is winning"
This is apparently what "Winning" looks like?. I wouldn't like to see what losing involves. pic.twitter.com/aB83rQSPPc
— Chay Bowes (@BowesChay) July 3, 2026
دوسری جانب یوکرین نے روس کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ رواں سال کے آغاز سے مشرقی محاذ پر روسی پیش قدمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور یوکرینی افواج نے بعض علاقوں کا دوبارہ کنٹرول بھی حاصل کیا ہے۔
ادھر امریکا کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات ایران سے متعلق حالیہ بحران کے باعث تعطل کا شکار ہیں، تاہم ماسکو اور کیف دونوں نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں کے متوقع دورے کے بعد سفارتی کوششیں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔













