روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں پر حملوں کا جواب مزید سخت کارروائی اور سرحدی حفاظتی زون کے قیام کی صورت میں دیا جائے گا۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے جمعہ کو اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور وزارت دفاع کے حکام کے ہمراہ ایک فوجی کمانڈ پوسٹ کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈونباس میں روسی فوج کی پیش قدمی، خصوصاً اہم شہر کونسٹنٹینووکا پر قبضے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ روس اس جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا، تاہم فوجی قیادت کو کارروائی کے دوران روسی فوجیوں کی جانوں کے تحفظ اور جنگی اہداف کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا۔
JUST IN: 🇷🇺🇺🇦 President Putin says Russia must keep launching large-scale strikes on Ukrainian military sites. pic.twitter.com/Tg7Jhts8nS
— BRICS News (@BRICSinfo) July 4, 2026
صدر پیوٹن نے الزام عائد کیا کہ کیف حکومت میدان جنگ میں اپنی مبینہ کامیابیوں کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے تخریبی اور دہشتگردانہ کارروائیوں کا سہارا لے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے بیانات اور اقدامات نہ صرف خود اس کے لیے بلکہ اس کے مغربی حامیوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
روسی صدر نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مغربی ممالک یوکرین کی جانب سے روسی شہریوں، شہری تنصیبات، ٹرانسپورٹ یا تعلیمی اداروں پر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں تو یہ انتہائی خطرناک رجحان ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین کے خفیہ ڈرون دستے کی کہانی، اہلخانہ بھی بے خبر
پیوٹن نے روسی فوج کو ہدایت دی کہ وہ یوکرین کے فوجی صنعتی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو سہارا دینے والی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روسی شہریوں پر جتنے زیادہ حملے کیے جائیں گے، روس اتنا ہی وسیع حفاظتی زون قائم کرنے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے یوکرین کے مغربی اتحادیوں کو بھی بالواسطہ انتباہ دیتے ہوئے فوج کو ہدایت کی کہ وہ جنگ میں ان کی براہ راست شمولیت کا تفصیلی جائزہ لے، کیونکہ اس بنیاد پر مستقبل میں “اہم فیصلے” کیے جا سکتے ہیں۔













