وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے لیے سابقہ قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں کے ٹیکس استثنیٰ میں توسیع نہ کرنے کے بعد ان علاقوں میں ٹیکس کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جس پر تاجر برادری نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس معاملے پر خیبر پختونخوا میں آوازیں اٹھ رہی ہیں اور صوبائی اسمبلی میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور ہوئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’فاٹا‘ اور ’پاٹا‘ کی ٹیکس چھوٹ میں توسیع کا معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھایا جائے گا، رانا ثنااللہ
مالی سال 27-2026 کے بجٹ اور فنانس بل میں مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کے لیے ٹیکس استثنیٰ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی وفاقی حکومت نے اب تک اس میں توسیع کی ہے، جو سال 2018 سے صوبے کے ساتھ انضمام کے بعد کرتی آ رہی تھی۔
خیبرپختونخوا حکومت نے سابقہ قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں ٹیکس کے نفاذ کو زیادتی قرار دیا ہے اور معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کی ہے۔
’مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے ٹیکس استثنیٰ‘
خیبر پختونخوا کے سابقہ قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں کو پسماندگی کی بنا پر ٹیکس استثنیٰ حاصل تھا۔ سال 2018 میں جب ان علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہوا تو اس وقت کی ن لیگ کی وفاقی حکومت نے ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھا اور 2023 تک اس میں توسیع دی۔ اس کے بعد ہر بجٹ میں اس استثنیٰ میں توسیع ہوتی رہی، جبکہ وفاقی حکومت اسے ختم کرنے کی کوشش بھی کرتی رہی۔
انضمام سے قبل قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ کو خصوصی آئینی حثیت حاصل تھی، اور اسی بنا پر ان علاقوں کو ٹیکس استثنی حاصل تھا، تاہم 2018 میں آئینی ترمیم کے بعد خصوصی آئینی حیثیت ختم ہوگئی تھی لیکن ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھا گیا تھا۔
ٹیکس نفاذ کی صوبائی حکومت مخالف کیوں؟
مالاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نظر آئیں۔ اس کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس معاملے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی جماعت کے اراکین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے اور مشاورت بھی کی۔
ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی، ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام (اے آئی پی) اور سالانہ ترقیاتی فنڈز کے واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کے بعد اب نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں، جو علاقے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ترقیاتی برابری اور معاشی استحکام حاصل ہونے تک ان علاقوں پر نئے ٹیکس نافذ نہیں کیے جائیں گے، لیکن موجودہ اقدامات اس وعدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔
وفد نے اجلاس میں صوبے میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کی ناقص ترسیل کا معاملہ بھی اٹھایا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جبکہ شدید گرمی میں کم وولٹیج نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو ضم شدہ اضلاع میں مجوزہ ٹیکسوں کے نفاذ، بجلی کی ترسیل اور دیگر متعلقہ معاملات پر باضابطہ مراسلہ ارسال کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے کے حل کے لیے پیسکو، ٹیسکو اور متعلقہ اداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
مالاکنڈ ڈویژن میں احتجاج کا اعلان
ادھر مالاکنڈ ڈویژن کی تاجر برادری نے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کے خدشات کے خلاف 5 جولائی کو احتجاجی مظاہروں اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ جب تک وفاقی حکومت ٹیکس چھوٹ میں توسیع کا واضح اعلان نہیں کرتی، ان کی تشویش برقرار رہے گی۔
کاروباری تنظیموں کے مطابق خطے کی معیشت ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی اور اچانک ٹیکسوں کا نفاذ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
’حکومت ٹیکس کے نفاذ کی تیاری مکمل کر چکی ہے‘
خیبر پختونخوا میں تعینات ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ وفاقی حکومت ٹیکس فری علاقوں میں ٹیکس لگانے کی تیاری پہلے ہی مکمل کر چکی ہے اور گزشتہ سال بھی احتجاج اور عوامی ردعمل کے باعث اس فیصلے کو مؤخر کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں ٹیکس لگانے کی تیاری 2023 سے جاری تھی اور صوبائی حکومت کی مدد سے ان علاقوں میں چلنے والی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ بھی کی گئی، جو اس منصوبے کا حصہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے سرمایہ کار ان علاقوں میں ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ اس کا خاطر خواہ فائدہ مقامی آبادی کو نہیں پہنچ رہا۔
ان کے مطابق حکومت ان علاقوں میں بھی ٹیکس نافذ کرکے اپنا ریونیو بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ٹیکس کا نفاذ ہو گیا تو ہر شعبے کو ٹیکس دینا ہو گا۔ ’پراپرٹی سے لے کر کاروبار، آمدن اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کا اطلاق ہو گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے صنعتی یونٹس قائم ہیں، جو وہاں سے منتقل ہونے کا بھی خدشہ رکھتے ہیں، جس کا مقامی روزگار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومت نے ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو ٹیکس لاگو ہو جائے گا، جیسا کہ ملک کے دیگر علاقوں میں لاگو ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ میں فاٹا پاٹا پر ٹیکس لگا تو امن و امان کی صورتحال کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی، اسد قیصر
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ پسماندہ علاقوں میں ترقی کے بغیر ٹیکس لگانا زیادتی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت وعدے کے مطابق ان علاقوں کے لیے فنڈز بھی جاری کرے تاکہ ترقی ممکن ہو اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو۔
ان کے مطابق ان علاقوں میں بے روزگاری اور غربت سب سے بڑے مسائل ہیں، جن پر وفاق کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔













