وفاقی حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سابق قبائلی علاقوں ’فاٹا‘ اور ’پاٹا‘ کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مدت میں توسیع کے معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کی جائے گی۔
یہ اہم پیشرفت جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کو امریکا بنگلہ دیش تجارتی معاہدے سے قبل اعتماد میں لیا گیا، مشیر خارجہ
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ وہ 30 جون کو ختم ہونے والی اس ٹیکس چھوٹ میں توسیع کے لیے آئی ایم ایف سے مشاورت کریں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم بیٹھک اور تحفظات
یہ اہم اجلاس وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں حکومتی وفد کی جانب سے رانا ثنا اللہ اور وزیر امور کشمیر امیر مقام شریک ہوئے، جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی اسد قیصر، جنید اکبر اور سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی نے کی۔
اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ برسوں کی بدامنی، دہشتگردی اور نقل مکانی کے باعث معاشی مشکلات کا شکار یہ پسماندہ علاقے اب بھی امداد کے مستحق ہیں، جس پر وزیراعظم نے اس مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔
دوسری جانب ’فاٹا لویہ جرگہ‘ نے بھی قبائلی اضلاع میں کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی انتباہ جاری کی ہے۔
حکومت کی مذاکرات کی پیشکش اور پی ٹی آئی کا مؤقف
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’مکالمہ جمہوریت کی بنیاد ہے‘ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات اور ’میثاقِ پاکستان‘ پر دستخط کی پیشکش کی ہے۔انہوں نے اپوزیشن کے ردعمل کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
مزید پڑھیں:پنجاب اسمبلی اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ان کی جماعت ’میثاقِ جمہوریت‘ پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) فراہم کیے جائیں، سیاسی انتقام کا خاتمہ ہو، عدلیہ آزاد ہو اور پارلیمان کو مضبوط بنایا جائے۔
اسد قیصر نے مجوزہ وفاقی بجٹ، تمباکو پر ٹیکس اور افغانستان کے ساتھ معطل تجارت پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
عمران خان کی صحت اور دیگر قومی امور
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے عارضے کے لیے پاکستان میں دستیاب بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ان کی رہائی کا فیصلہ صرف عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق
آزاد جموں کشمیر کی حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک کو متاثر کرنے اور انتشار پیدا کرنے کی مذموم سازش کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل ایک ہفتے میں بحال ہو جائے گی۔ رانا ثنااللہ نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہنے پر اپوزیشن کا شکریہ بھی ادا کیا۔














