امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ ہفتے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ملاقات متوقع ہے۔
امریکی اخبار ایکسیوئس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیا تاہم اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے
دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے بھی جمعہ کے روز ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو اور جلد ملاقات پر اتفاق کی تصدیق کی ہے۔
ایران پر حملے کا موقع اور جوہری مذاکرات
میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیوئس‘ کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی اہم بیانات دیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکا اگر چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا اور ہم ایک ہی حملے میں سب کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا‘۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے حملہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی نہ بچتا۔ انہوں نے جوہری مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایران اس وقت معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے قطر میں جاری جوہری مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے بعد سفارتی عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔ اس وقفے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔
فروری کی خفیہ ملاقات اور پاکٹ پلان
ایکسیوئس کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان یہ متوقع ملاقات رواں سال فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی آخری ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی۔
فروری کی ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف مشترکہ امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کا ایک خفیہ منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے معاملات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ کے مشیروں کے تحفظات اور نیتن یاہو پر تنقید
ایکسیوئس کی رپورٹ میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے کئی قریبی مشیر سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو نے خطے کی صورتحال اور اہم پیش رفت کے بارے میں غلط اندازے لگائے۔
عہدیدار کے بقول ’ٹرمپ کے مشیروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو تقریباً ہر معاملے میں غلط ثابت ہوئے ہیں‘۔
گزشتہ ماہ ہونے والی ایک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور امریکی حمایت پر خاطر خواہ قدردانی نہ کرنے پر اسرائیلی وزیراعظم سے ناراضی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری بند کریں اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا پر مبنی سفارتی فریم ورک کی حمایت کریں تاکہ خطے میں جاری سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔














