اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی طرزِ عمل اور تنظیمی نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

احتجاج کے دوران کارکنوں کے درمیان دھکم پیل، تلخ کلامی، ہاتھا پائی، کپڑے پھاڑنے اور ہنگامہ آرائی جیسے مناظر اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جماعت کے اندر اختلافات اور انتشار اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

جو جماعت اپنے کارکنوں کو ایک صف میں کھڑا رکھنے میں کامیاب نہ ہو، اس کے سیاسی استحکام کے دعوؤں پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر ہر ہفتے پیش آنے والے واقعات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ احتجاج کے بجائے اندرونی کشیدگی اور بدنظمی زیادہ نمایاں ہو رہی ہے۔

بار بار سامنے آنے والی گالم گلوچ، دھکم پیل، ہنگامہ آرائی اور اپنے ہی کارکنوں کے درمیان تصادم کو ناقدین پی ٹی آئی کے سیاسی کلچر کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق جب سیاسی تربیت برداشت، نظم و ضبط، مکالمے اور دلیل کے بجائے اشتعال انگیزی، تصادم اور ہجوم کی سیاست پر استوار ہو تو ایسے ہی مناظر جنم لیتے ہیں، جہاں کارکن مخالفین سے پہلے آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی رویے کی عکاسی ہے جس میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے ہنگامہ آرائی اور بدتمیزی کو فوقیت دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر ہر ہفتے سامنے آنے والے مناظر اب عوام کے لیے ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، جہاں سنجیدہ سیاسی سرگرمی کے بجائے نیا تنازع، نئی لڑائی اور نئی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت میں شائستگی، برداشت اور نظم و ضبط کے بجائے بدتمیزی، تضحیک، دھونس اور تصادم کو سیاسی رویے کا حصہ بنا دیا جائے تو اس کے اثرات کارکنوں کے طرزِ عمل میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق جب قیادت واضح حدود متعین نہ کرے تو کارکن بھی ان حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور یہی رویہ بار بار عوام کے سامنے آتا ہے۔

پی ٹی آئی نے بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کو سیاسی سرگرمی کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے باعث روزانہ یا ہفتہ وار احتجاج سنجیدہ سیاسی جدوجہد کے بجائے ایک تماشے کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

ناقدین کی جانب سے علیمہ خان کے کردار پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب قانونی اور سیاسی اقدامات کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں: علیمہ خان نے پی ٹی آئی ورکرز کو اڈیالہ آنے سے روک دیا، ’قیادت، اراکین پارلیمنٹ اور عہدیداران احتجاج کرنے آئیں‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی سیاسی معیار برقرار رہا تو یہ سوال مزید شدت اختیار کرے گا کہ کارکنوں کے طرزِ عمل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض چند کارکنوں کا رویہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی سوچ کی عکاسی ہے جس میں کردار کشی، تصادم اور ہنگامہ آرائی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں ڈاک خدمات مہنگی، خطوط، پوسٹ کارڈز اور پارسل بھیجنے کے نئے نرخ نافذ

بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع

گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش