ایران جنگ نے عالمی توانائی منڈی کو ہلا دیا، یومیہ سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی کو غیر معمولی دھچکا پہنچا ہے، جہاں یومیہ بنیادوں پر تیل کی سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق مجموعی سپلائی کے نقصان کے اعتبار سے 1979 کا ایرانی انقلاب اب بھی سب سے بڑا تیل بحران ہے، تاہم موجودہ جنگ نے خام تیل کے ساتھ قدرتی گیس، ریفائنڈ ایندھن اور کھاد کی عالمی ترسیل کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA)، اوپیک اور امریکی محکمہ توانائی کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران تیل کی یومیہ سپلائی میں 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل سے زائد کمی واقع ہوئی، جو اس سال عالمی یومیہ طلب کا تقریباً 13.6 فیصد بنتی ہے۔ یہ کمی 1973 کے عرب آئل ایمبارگو، 1979 کے ایرانی انقلاب اور 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران ہونے والے یومیہ نقصانات سے کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران ماضی کے تیل بحرانوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس نے صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، ڈیزل، جیٹ فیول اور کھاد کی عالمی سپلائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگ کے باعث قطر کی تقریباً پانچواں حصہ ایل این جی پیداوار بھی متاثر ہوئی، جبکہ خلیجی ریفائنریوں میں رکاوٹوں سے یورپ، ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی میں خلل کئی ماہ، جبکہ قدرتی گیس کے شعبے میں کئی برس تک جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بھی گر گئیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ موجودہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران تین برس میں 4.3 ارب بیرل سے زائد پیداوار متاثر ہوئی تھی، جو اب بھی جدید تاریخ کا سب سے بڑا مجموعی تیل بحران تصور کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp