ترکیہ کا ففتھ جنریشن جنگی طیارہ ’ کآن‘ اڑان بھرنے کو تیار، امریکی صدر سے بڑے سرپرائز کی امید

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کو امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دورۂ ترکیہ کے دوران، ایف-110 لڑاکا طیاروں کے انجنوں کی خریداری کی منظوری مل جائے گی۔

صدر رجب طیب اردوان کی میزبانی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں، جہاں ترکیہ اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون سمیت کئی اہم امور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اس ڈیل سے ترکیہ کے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے ففتھ جنریشن کے ’کآن ‘ اسٹیلتھ جنگی طیارے کے منصوبے کو نمایاں تقویت مل سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا مثبت اشارہ

گزشتہ ماہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ترکیہ کی ایف-110 انجنوں کے حصول اور ایف-35 جنگی طیارہ پروگرام میں دوبارہ شمولیت کی خواہش کے حوالے سے صدر اردوان کو ’بہت خوش‘ کریں گے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق قومی سلامتی اور سفارتی تعلقات میں بہتری کے تناظر میں قوی امکان ہے کہ امریکا جنرل الیکٹرک کے تقریباً 40 ایف-110 انجنوں کی فراہمی کی فوری منظوری دے سکتا ہے، جو ’کآن‘ طیارے کے مزید پروٹوٹائپس (ابتدائی نمونوں) کی تیاری کے لیے بے حد درکار ہیں۔

’کآن‘ پروجیکٹ اور ترک فضائیہ کا مستقبل

استنبول میں قائم تھنک ٹینک ’ایڈام‘ کے ڈائریکٹر سینان اُلگن کا کہنا ہے کہ ترکیہ پہلے ہی ایف-110 انجنوں سے لیس ’کآن‘ کے ابتدائی نمونے تیار کر کے ان کی آزمائشی پروازیں کامیابی سے کر چکا ہے، تاہم منصوبے کو وسعت دینے کے لیے مزید انجنوں کی فراہمی کا انتظار ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا کا ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر پابندیوں کا اعلان

ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز کی جانب سے تیار کیا جانے والا دو انجنوں پر مشتمل یہ اسٹیلتھ جنگی طیارہ ترک فضائیہ کے پرانے ایف-16 طیاروں کی جگہ لے گا، تاکہ ملک ففتھ جنریشن کے جنگی طیارے تیار کرنے والے دنیا کے محدود ممالک کی صف میں شامل ہو سکے۔

اگرچہ ترکیہ کا حتمی ہدف اس طیارے کو مکمل طور پر مقامی انجن سے لیس کرنا ہے، تاہم وزیر دفاع یاشر گولر کے مطابق مقامی انجن کی تیاری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

روس سے S-400 کی خریداری اور امریکی پابندیاں

ترکیہ کو گزشتہ برس ایف-110 انجنوں کی پہلی کھیپ میں 10 انجن موصول ہوئے تھے، جبکہ مزید 80 انجنوں کی خریداری کے لیے امریکا سے منظوری درکار ہے۔

یہ عمل 2017 میں روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی تنازع کے باعث تعطل کا شکار ہے۔

روس سے اس دفاعی نظام کی خریداری پر امریکا نے 2019 میں ترکیہ کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا اور 2020 میں ’کاٹسا‘ پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے دفاعی تعلقات شدید متاثر ہوئے۔ جرمن مارشل فنڈ کے انقرہ دفتر کے سربراہ اوزگور اونلوحصارچکلی کے مطابق اگر یہ انجن نہ ملے تو ترکیہ ’کآن‘ طیارے کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع نہیں کر سکے گا۔‘

سفارتی کوششیں اور ایف-35 میں واپسی کے امکانات

ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایف-35 پروگرام اور ’کآن‘ کے لیے ایف-110 انجنوں کی منظوری، دونوں معاملات میں پیش رفت کرے، تاہم اس کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ’کِل چین‘ حکمت عملی جس نے بھارت پر فضائی برتری حاصل کی

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر مصطفیٰ آیدین کے مطابق کانگریس کے سخت رویے میں تبدیلی آسان نہیں ہوگی، جبکہ سابق امریکی سفارت کار میتھیو برائزا کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ انتظامی اختیارات کے ذریعے ایف-35 تنازع ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں، لیکن پابندیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کانگریس کی منظوری پھر بھی درکار ہوگی۔

اربوں ڈالر کے بین الاقوامی معاہدے اور عالمی دلچسپی

اگرچہ ’کآن‘ کی باقاعدہ آپریشنل سروس میں شمولیت میں ابھی کئی سال باقی ہیں، تاہم انڈونیشیا پہلے ہی 48 طیاروں کی خریداری کے لیے 10 ارب ڈالر کا بھاری معاہدہ کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو اجلاس کے دوران خلیجی ممالک اور ممکنہ یورپی شراکت داروں کی جانب سے بھی اس طیارے میں شدید دلچسپی سامنے آ سکتی ہے۔

یہ سربراہی اجلاس اس بات کا ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا کہ آیا امریکا اور ترکیہ اپنے دیرینہ دفاعی اختلافات کم کرتے ہوئے باہمی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتے ہیں یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عامر گیلانی کی 30ویں سالگرہ، یاد گار لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر

آزاد کشمیر انتخابات 2026: امیدواروں کی حتمی فہرست جاری، 45 حلقوں میں 852 امیدوار مدمقابل

ایئرفورس کے بہادرگروپ کیپٹن خاتون کو اغوا سے بچاتے ہوئے شہید، عوام کا زبردست خراج تحسین

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار تک پہنچ گئی، امدادی کارروائیاں اختتامی مرحلے میں داخل

ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟