حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سینٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ میں شرکت کے لیے بھارتی والی بال ٹیم کو باضابطہ طور پر ’نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ‘ (این او سی ) جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی کھلاڑی ہمارے کرکٹرز کو اشتعال دلاتے رہے، اس رویے سے آئی سی سی کو آگاہ کریں گے، محسن نقوی
پاکستان والی بال فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری محمد یعقوب نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے منظوری کے بعد بھارتی حکام کو بھی اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
BREAKING NEWS🔴 Pakistan clears Indian volleyball team’s participation
The federal government has issued an NOC for the Indian volleyball team to visit Pakistan under its sports diplomacy policy, paving the way for their participation in the CAVA Men’s Volleyball Championship. pic.twitter.com/rFfTID0Ugn— Aqib Mansoor (@AqibMansoor5) July 5, 2026
’کاوا‘مینز والی بال چیمپیئن شپ 22 سے 29 جولائی تک اسلام آباد میں کھیلی جائے گی، جس میں روایتی حریف بھارت سمیت خطے کی دیگر اہم ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی۔
ملک میں والی بال کے فروغ کا بہترین موقع
پاکستان والی بال فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری محمد یعقوب کا کہنا تھا کہ یہ چیمپیئن شپ پاکستان میں ہونے والے بڑے بین الاقوامی والی بال مقابلوں میں سے ایک ہوگی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تاریخی ایونٹ کے انعقاد سے نہ صرف ملک میں والی بال کے کھیل کو فروغ ملے گا، بلکہ قومی ٹیم کو بھی عالمی معیار کی مضبوط ٹیموں کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا بہترین موقع میسر آئے گا۔
10 ممالک کی ٹیمیں میدان میں اتریں گی
چوہدری محمد یعقوب کے مطابق اس میگا ایونٹ کو یادگار بنانے کے لیے تمام تر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:کھیل میں سیاست کو لانا افسوسناک ہے، اے بی ڈی ویلیئرز کی بھارتی کھلاڑیوں پر تنقید
چیمپیئن شپ میں میزبان پاکستان اور بھارت کے علاوہ قازقستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، ترکمانستان، کرغزستان، مالدیپ اور سری لنکا سمیت مجموعی طور پر 10 ممالک کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتریں گی۔
بھارتی ٹیم کو این او سی جاری کرنے کے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، جس سے پاک بھارت کھیلوں کے روابط میں مثبت پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔














