کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے20 سے 25 نقاب پوش دہشتگردوں نے انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور کزن حسام پر 6 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کیا ہے۔
دہشتگردوں کی طرف سے شدید فائرنگ بھی گئی تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 6 گھنٹے سے زیادہ تشدد کے بعد نیم مردہ حالت میں سڑک پھینک کر فرار ہوگئے۔
گزشتہ روز جنڈالہ کراس کے قریب کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے درخت کاٹ کر مرکزی سڑک بند کی گئی تھی جس کی وجہ سے ایک ایمبولینس جس میں ڈیڈ باڈی تھی پھنسی ہوئی تھی۔
انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے کے لیے پہنچے ہی تھے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 دہشتگردوں نے اندھادھند فائرنگ شروع کردی اور سردار ناصر ارباب اور اس کے کزن حسام کو گن پوائنٹ پر روک لیا اور تشدد کرتے ہوئے راولاکوٹ کی طرف سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ہلاں بازار تک لے گئے۔
ہلاں بازار سے ہائی ایس گاڑی (جو پہلے سے وہاں موجود تھی) میں ڈال کر پانیولہ لے گئے جہاں پر صبح 6 بجے تک تشدد کرتے رہے۔
ناصر ارباب اور حسام ان کے ترلے کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیم کے دہشگرد یہ کہتے ہوئے تشدد اور انتہائی بے ہودہ گالم گلوچ کرتے رہے کہ تم انتظامیہ کو دیگیں پکا کر دیتے ہو۔
سردار ناصر ارباب شدید تشدد کے باعث بے ہوش ہوگئے جنہیں بعدازاں نیم مردہ حالت میں ہلاں بازار کے پاس سڑک کنارے پھینک کر دہشتگرد فرار ہو گئے۔
اس واقعہ کے بعد تاجر برادری اور علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ارجہ کی تاجر برادری جلد پریس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرے گی بلکہ کالعدم تنظیم کے خلاف اگلے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائےگا۔














