کوسٹا ریکا کے سائنسدانوں نے بحرالکاہل میں کیبو بلانکو اور کانو آئی لینڈ کے قریب ‘گھوسٹ شارک’ کی ایک نئی نسل دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ دریافت وسطی امریکی ساحلی علاقوں میں اس نوع کی پہلی معلوم نسل سمجھی جا رہی ہے، جس نے سمندری حیات کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
نمایاں خصوصیات اور انفرادیت
کوسٹا ریکا یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات کے پروفیسر آرٹورو انگولو سیباجا کے مطابق یہ نئی دریافت شدہ نسل اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے دیگر معروف اقسام سے کافی منفرد ہے۔

اس گھوسٹ شارک کی نمایاں خصوصیات میں نسبتاً چھوٹی تھوتھنی، جسم کا گہرا رنگ اور پشت کے پنکھ پر غیر معمولی طور پر لمبا کانٹا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیوزی لینڈ میں لمبی ناک والی بھوت شارک کی نئی اور عجیب قسم دریافت
پروفیسر سیباجا کا کہنا ہے کہ ابتدائی جینیاتی تجزیے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس مچھلی کا دیگر اقسام کے ساتھ تولیدی تعلق نہیں ہے، جو اس کے ایک الگ نسل ہونے کی مضبوط دلیل ہے۔
تحقیقی عمل اور تقابلی جائزہ
اگرچہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک نئی دریافت ہے، تاہم پروفیسر سیباجا نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے بتایا کہ پیرو اور چلی کے ساحلی علاقوں سے ماضی میں حاصل کیے گئے کچھ نمونے اس نئی دریافت سے کافی مشابہت رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل محققین ان تمام نمونوں کا مزید گہرائی سے تقابلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کی درجہ بندی کو حتمی شکل دی جا سکے۔
40 کروڑ سال پرانا ارتقائی پس منظر
گھوسٹ شارک، غضروفی مچھلیوں کے ایک خاص خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو شارک کی قریبی رشتہ دار مانی جاتی ہیں۔

سائنسی اعداد و شمار کے مطابق ان کی ارتقائی راہیں آج سے تقریباً 40 کروڑ سال قبل شارک کے دیگر خاندانوں سے جدا ہو گئی تھیں۔
اب تک دنیا کے مختلف حصوں بشمول جنوبی افریقہ، تائیوان، آسٹریلیا، جاپان اور گرین لینڈ سے لے کر برازیل کے ساحلوں تک اس کی صرف 3 اقسام ہی دریافت ہو سکی ہیں۔
وسعت اور آئندہ کا لائحہ عمل
سائنسدانوں کا قوی امکان ہے کہ یہ نئی نسل صرف کوسٹا ریکا تک محدود نہیں، بلکہ وسطی اور جنوبی امریکا کے بحرالکاہل کے دیگر ساحلی علاقوں میں بھی موجود ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی مارکیٹوں میں شارک کے گوشت میں جعلسازی، نایاب اقسام بھی دسترخوان تک پہنچ گئیں
تاہم اس کے پھیلاؤ اور باقاعدہ سائنسی درجہ بندی کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کا عمل جاری ہے، جس سے سمندری حیات کے بارے میں مزید نئے حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔














