چین کا آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گزشتہ سال بحرالکاہل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کے تجربے کے بعد بیجنگ کا دوسرا بڑا اسٹریٹجک میزائل تجربہ ہے، جس پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نیوی نے پیر کے روز آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجرباتی لانچ کیا۔

یہ گزشتہ سال ستمبر میں بحرالکاہل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کے تجربے کے بعد چین کا دوسرا اسٹریٹجک میزائل تجربہ ہے۔ ستمبر 2024 کا تجربہ 1980 کے بعد چین کی جانب سے بحرالکاہل میں کیا جانے والا پہلا آئی سی بی ایم تجربہ تھا۔

اس سے قبل پیر کو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان کے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ بیجنگ نے ان کی حکومتوں کو جنوبی بحرالکاہل کے اوپر جوہری صلاحیت کے حامل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے متوقع تجربے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) کے مطابق میری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی اسٹاربورڈ نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، جن میں بحرالکاہل میں موجود چین کے 2 ٹریکنگ جہاز دکھائے گئے۔ ان جہازوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بیلسٹک میزائل کے تجربے کی نگرانی کے لیے تعینات تھے۔

یہ بھی پڑھیے ایران جنگ کے بعد چین کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھ گیا، سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ

چین کی جانب سے اس میزائل تجربے کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی جب آسٹریلیا نے بحرالکاہل میں واقع اپنے ہمسایہ جزیرہ ملک فجی کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا نے چین کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کو خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ نے بھی اس تجربے پر تشویش ظاہر کی۔ وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ علاقائی استحکام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیے چینی صدر کے دورے سے ایک روز قبل شمالی کوریا کا جوہری حیثیت برقرار رکھنے کا اعادہ

انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’بحرالکاہل امن کا سمندر ہے، اور جنوبی بحرالکاہل میں جوہری صلاحیت کے حامل ہتھیاروں کے چین کے تجربے پر ہمیں گہری تشویش ہے۔‘

ادھر جاپان نے بھی بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اس میزائل تجربے پر نظرثانی کرے۔

جاپانی حکومت نے تجربے سے قبل جاری اپنے بیان میں کہا، ’ہم نے چین سے بھرپور مطالبہ کیا کہ وہ بیلسٹک میزائل کے اس تجربے پر نظرثانی کرے تاکہ یہ جاپان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے، خصوصاً اگر اس کا راستہ جاپانی فضائی حدود سے گزرتا ہو۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp