پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا، جہاں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بج کر 24 منٹ تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,427.92 پوائنٹس یعنی 0.77 فیصد اضافے کے ساتھ 186,800.12 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنری کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حب پاور، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے بڑے حصص سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا تھا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 5,800.93 پوائنٹس یعنی 3.2 فیصد اضافہ ہوا اور انڈیکس 185,372.20 پوائنٹس پر بند ہوا۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +975.45 points this morning. Current index is at 186,347.66 points (9:45 AM) pic.twitter.com/ANxoX1BKfE— Investify Pakistan (@investifypk) July 6, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی اور ملکی معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔
عالمی سطح پر بھی پیر کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں عمومی طور پر مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ وال اسٹریٹ فیوچرز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کار آئندہ مالیاتی نتائج کے سیزن سے بہتر کارکردگی کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: نئے مالی سال کا شاندار آغاز، اسٹاک ایکسچینج ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
دوسری جانب اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 71.70 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 0.5 فیصد کمی کے بعد 68.38 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔

توانائی کی قیمتوں میں کمی اور امریکا میں روزگار سے متعلق نسبتاً نرم اعدادوشمار کے بعد مالیاتی منڈیوں نے جولائی میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب کمپنیوں کے سہ ماہی مالی نتائج پر مرکوز ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مضبوط منافع کی توقع کی جا رہی ہے۔














