مصر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے مارینا العالمین میں تقریباً 2 ہزار سال پرانے بازنطینی دور کے ایک شہر کے آثار دریافت کیے ہیں، جبکہ کھدائی کے دوران قدیم مقبرے، انسانی باقیات، سونے کے نوادرات اور تاریخی مخطوطات بھی برآمد ہوئے ہیں۔
مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ دریافت اسکندریہ سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع مارینا العالمین کے مقام پر ہوئی، جہاں حالیہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران رومی اور یونانی ادوار سے تعلق رکھنے والے 18 مقبرے بھی دریافت کیے گئے۔
وزارت کے بیان کے مطابق مقبروں سے انسانی باقیات، قدیم مخطوطات، مٹی کے برتن اور متعدد زیرِ زمین نوادرات برآمد ہوئے۔ اہم دریافتوں میں 24 سونے کی اشیا بھی شامل ہیں، جنہیں تدفینی رسومات کے تحت میتوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان اشیا کا تعلق قدیم یونانی اور رومی مذہبی و ثقافتی روایات سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے ماہرین آثار قدیمہ نے یورپ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر دریافت کر لی
اسی مقام پر ماہرین نے بازنطینی دور سے تعلق رکھنے والی شہری آبادی کے آثار بھی دریافت کیے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، عوامی چوک، گلیاں اور دیگر تعمیرات شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ علاقہ اپنے دور میں ایک منظم اور آباد ساحلی شہر تھا۔
وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق مارینا العالمین میں یہ 44ویں بڑی آثارِ قدیمہ کی دریافت ہے۔ اس مقام پر پہلی مرتبہ 1986 میں تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران قدیم آثار سامنے آئے تھے، جس کے بعد یہاں مسلسل تحقیقی اور کھدائی کا عمل جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مارینا العالمین قدیم رومی اور بازنطینی ادوار میں بحیرۂ روم کے ساحل پر ایک اہم تجارتی اور رہائشی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے 150 سال پرانا پراسرار مشروب محفوظ حالت میں دریافت
دوسری جانب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے مغربی صحرا میں واقع ایک نخلستان کے قریب چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم بستی بھی دریافت کی ہے۔ کچی اینٹوں سے تعمیر اس بستی میں عوامی چوک، رہائشی عمارتیں، ایک چرچ اور باقاعدہ سڑکوں کا جال ملا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس دور کی ایک منظم شہری آبادی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافتیں مصر کے رومی اور بازنطینی ادوار کی تاریخ، شہری زندگی، مذہبی روایات اور تدفینی رسوم کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ مصر میں حالیہ برسوں کے دوران آثارِ قدیمہ کی متعدد اہم دریافتوں کو ملک میں سیاحت کے فروغ اور قدیم تہذیبوں پر تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔














