چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک سندھ طاس معاہدہ دنیا میں سرحد پار دریاؤں کی تقسیم سے متعلق کامیاب ترین اور پائیدار بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تعاون کی بنیاد رہا بلکہ پاکستان کے آبی وسائل کی منصوبہ بندی، زرعی ترقی اور توانائی کے نظام کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔
معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کی مسلسل اور قابلِ پیش گوئی فراہمی نے پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظام، انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم کی تعمیر اور توسیع کا موقع فراہم کیا۔ اس وسیع نظام میں 3 بڑے آبی ذخائر، 6 بیراج، 12 بین الندوائی رابطہ نہریں اور نہروں کا ایک بڑا جال شامل ہے، جو تقریباً ساڑھے 3 کروڑ ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے اور ملک کی 90 فیصد سے زائد غذائی پیداوار کی بنیاد ہے۔
پاکستان کا پن بجلی کا شعبہ، آبپاشی پر مبنی زراعت اور مجموعی اقتصادی ترقی انہی مغربی دریاؤں سے آنے والے پانی کے مستقل بہاؤ پر استوار ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کا بھی ایک اہم ستون سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم مئی 2025 میں اس استحکام کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان کیا، بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو معاہدے کی پابندیوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ حالیہ واٹر کنونشن میں دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ مشترکہ دریائی نظاموں کے انتظام، شفافیت اور تعاون کو ’ون واٹر، ون وژن‘ کے اصول کے مطابق مزید مضبوط بنائیں۔ اس عالمی رجحان کے برعکس بھارت نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جو مشترکہ آبی وسائل کے تعاون کو کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔
قانونی بحث اپنی جگہ، لیکن پاکستان کے لیے اس فیصلے کے اسٹریٹجک اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ یہ اقدام چھ دہائیوں پر محیط آبی تعاون کے تسلسل کو متاثر کرتا ہے اور ایسے دریائی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے جس پر پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کا انحصار ہے۔
مئی 2025 کے بعد بھارت نے مغربی دریاؤں پر بالائی علاقوں میں آبی ڈھانچے کی تعمیر میں مزید تیزی لائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں، جن میں رنبیر کینال کی توسیع اور چناب-بیاس لنک ٹنل جیسے منصوبے شامل ہیں، کے لیے بھی تیز رفتار عملدرآمد کی کوششیں جاری ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کی طویل المدتی آبی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کے ساتھ شیئر کرنا بھی بند کر دیا ہے۔ 2025 کے سیلابی موسم کے دوران بروقت معلومات نہ ملنے کے باعث پاکستان کو سیلاب کی پیش گوئی اور ہنگامی تیاریوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی جانوں، اہم انفراسٹرکچر اور لاکھوں افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہوئے۔
ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف انسانی ہمدردی کے اصولوں سے متصادم ہیں بلکہ سرحد پار آبی تعاون کی روح کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، خصوصاً ہدف 6.5 اور اس سے متعلق اشاریوں پر عمل درآمد کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
زیریں کنارے کی ریاست ہونے کے باعث پاکستان کا آبپاشی نظام، آبی ذخائر، زراعت، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی بڑی حد تک ان دریاؤں پر منحصر ہے جن کا منبع بھارت میں واقع ہے۔ ایسے میں پانی کی مقدار یا اس کے بہاؤ کے وقت میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال صرف آبی انتظام تک محدود مسئلہ نہیں رہتی بلکہ قومی سلامتی، خوراک، توانائی، ماحولیات اور معیشت کے لیے بھی ایک اسٹریٹجک چیلنج بن جاتی ہے۔
خصوصی طور پر دریائے چناب پاکستان کے آبپاشی نظام میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انڈس بیسن کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ چناب میں پانی کا قابلِ اعتماد اور متوقع بہاؤ پورے آبپاشی نظام کے محفوظ اور مؤثر آپریشن کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر بالائی علاقوں سے پانی کے بہاؤ کی بروقت معلومات دستیاب نہ ہوں تو نہروں میں پانی کی تقسیم، سیلابی انتظام اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے۔ شدید سیلاب یا دیگر ہائیڈرولوجیکل حالات میں اس کے نتیجے میں جانی نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور اقتصادی خسارے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف محض کسی ایک ڈیم، پن بجلی منصوبے یا انجینئرنگ ڈھانچے تک محدود نہیں۔ اصل تشویش یہ ہے کہ بالائی علاقوں میں متعدد منصوبوں کی مجموعی صلاحیت مستقبل میں پاکستان آنے والے پانی کی مقدار، وقت اور تسلسل کو زیادہ مؤثر انداز میں کنٹرول کر سکتی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کا زرعی اور آبپاشی نظام انہی دریاؤں پر قائم ہو، یہ صورتحال محض انتظامی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
مارالہ کے مقام پر اوسطاً 2 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ سالانہ پانی لے کر آنے والا دریائے چناب تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے۔ مارالہ، خانکی، قادرآباد، تریمو اور پنجند بیراج اسی دریا پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی علاقے پاکستان میں گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم زرعی اجناس کی پیداوار کا بنیادی مرکز ہیں اور لاکھوں دیہی خاندانوں کی معیشت انہی پر قائم ہے۔
مزید یہ کہ دریائے چناب انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم کے باہم مربوط ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ پورے نظام میں آبی ذخائر، بیراج، لنک کینالز اور نہریں ایک مشترکہ ہائیڈرولک نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہیں۔
اس لیے اگر چناب میں پانی کی مقدار یا بہاؤ کے وقت میں مستقل تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسی دریا کے کمانڈ ایریا تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے انڈس بیسن میں نہری نظام اور آبپاشی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














