فرانس میں ایک بار پھر ایک بڑے میوزیم کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں شمال مشرقی علاقے میں واقع معروف فرانسیسی لگژری کرسٹل ساز ادارے ’لالیک‘ کے میوزیم سے قریباً 40 لاکھ یورو (تقریباً 45 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کے زیورات چوری کر لیے گئے۔
فرانسیسی اخبار لے پاریزیاں کے مطابق اتوار کی صبح کئی نقاب پوش ملزمان نے میوزیم کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد 6 ڈسپلے کیسز توڑ ڈالے اور کرسٹل سے تیار کیے گئے 20 نایاب زیورات لے کر فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں:جرمنی میں کرسمس کے دوران بڑی بینک ڈکیتی، تجوری اور 3 ہزار لاکرز میں جھاڑو پھرگئی
میوزیم انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کے بعد پولیس اور جینڈارمری نے کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ نقصان کے تخمینے اور سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے میوزیم آئندہ چند روز تک بند رہے گا۔
ونگن سر موڈر کے میئر کرسچین ڈورشنے نے مقامی اخبار سے گفتگو میں کہا کہ ملزمان بظاہر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے، کیونکہ وہ سیدھے زیورات کے حصے میں پہنچے۔ ان کے مطابق میوزیم کا الارم سسٹم فعال تھا، تاہم نجی سکیورٹی کمپنی پولیس کو بروقت اطلاع دینے میں ناکام رہی۔
پولیس حکام نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے، جبکہ تحقیقات باس رائن جینڈارمری کے کرمنل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:برطانوی میوزیم سے نوادرات کی چوری کا معاملہ، جرمن ڈائریکٹر مستعفی
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں پیرس کے لوور میوزیم میں قریباً 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کے قیمتی جواہرات کی چوری کے بعد لالیک میوزیم کو حساس مقامات کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے خصوصی نگرانی میں رکھا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود تازہ واردات نے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔














