چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن ہم اس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے، اگر ہمیں اس کے لیے جنگ لڑنا پڑی تو ہم وہ بھی لڑیں گے۔
نومنتخب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہاں کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں۔ گلگت کے عوام آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے اس خطے کی ترقی اور آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی اور اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے تاریخ میں ایک نمایاں مقام بنایا۔
گلگت بلتستان کے عوام نے خود ڈوگرا راج سے آزادی حاصل کی اور کراچی پہنچ کر پاکستان میں شامل ہونے کی درخواست کی، لیکن وہ آج تک اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا۔
ان کی اس جدوجہد کے جواب میں ان پر ایف سی آر (FCR) جیسا نظام مسلط کیا گیا۔ بلاول بھٹو… pic.twitter.com/mGCtOhSu8t— WE News (@WENewsPk) July 6, 2026
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ نئی نسل گلگت بلتستان کی باگ ڈور سنبھال رہی ہے اور نوجوانوں کو بہترین مواقع فراہم کرنا ان کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوجوان باصلاحیت اور ہنر مند ہیں اور وہ جدوجہد کو آگے لے کر بڑھیں گے۔
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حق حاکمیت، حق روزگار اور حق ملکیت دیا جائے اور انہیں اپنی زمین کا مالک بنایا جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاست لڑائی جھگڑے اور دشمنی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں نئی سیاسی مثال قائم کی جائے اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کی خدمت کریں۔
بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم کے مکمل تعاون اور سپورٹ کے شکر گزار ہیں اور گلگت بلتستان میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر ترقی کی نئی بنیاد رکھیں گے۔
بلاول بھٹو نے بھارتی افواج کی بہادری کی تعریف کی اور کہاکہ پاکستان کی افواج نے معرکہ حق میں بھارت کو عبرتناک شکست دی۔
انہوں نے مودی کو متنبہ کیاکہ وہ ان کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پاکستانی عوام سیسہ پلائی دیوار کی طرح دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دراندازی کرنا چاہتا ہے لیکن مودی کی افغانستان کے ذریعے کی جانے والی سازش ناکامی سے دوچار ہوگی۔
بلاول بھٹو نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ وہ جلد ہی آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور انہیں بتائیں گے کہ ان کا 3 نسلوں کا ساتھ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری طور پر حق حاکمیت دینا ہوگا اور جب تک رائے شماری مکمل نہ ہو، جی بی اور آزاد کشمیر کے نمائندے وفاق کا حصہ بنیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر سے بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات، آئندہ انتخابات پر تبادلہ خیال
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کچھ سیاسی پارٹیوں کے الیکشن بائیکاٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کا حصہ بنیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو آئینی حقوق دینا ہوں گے اور وہ اس مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔














