گرومنگ گینگز تحقیقات: جب لڑکیاں غائب ہو رہی تھیں تو سوال کیوں نہیں اٹھائے گئے؟

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں بچوں کے منظم جنسی استحصال جسے عام طور پر ’گرومنگ گینگز‘ اسکینڈل کہا جاتا ہے سے متعلق تحقیقات اور بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اگرچہ گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران اس حوالے سے متعدد تحقیقات، عدالتی کارروائیاں اور سزائیں سامنے آ چکی ہیں تاہم اب بھی کئی بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات متاثرین، ان کے اہلخانہ اور سماجی کارکن تلاش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے پاکستانی یا کوئی اور؟ برطانوی پولیس نے ایلون مسک کو آئینہ دکھا دیا

ان سوالات میں یہ شامل ہے کہ خطرے کی ابتدائی علامات کو کیوں نظر انداز کیا گیا، متاثرین کی باتوں پر بروقت یقین کیوں نہیں کیا گیا اور بچوں کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں کیوں ادا نہ کر سکے۔

دہائیوں پرانے سوالات کے جواب کی تلاش ایک بار پھر شروع

برطانیہ میں جاری نئی قانونی تحقیقات کا مقصد صرف ماضی کی غلطیوں کا تعین کرنا ہی نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ آیا موجودہ نظام ایسے جرائم کی روک تھام اور کمزور بچوں کے تحفظ کے لیے کافی حد تک مؤثر ہے یا نہیں۔

اس تحقیق میں متاثرین اور ان کے تجربات کو مرکزی حیثیت دینے کا عزم کیا گیا ہے کیونکہ بہت سے متاثرین کا مؤقف ہے کہ برسوں تک ان کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔

گرومنگ گینگز سے مراد وہ منظم گینگز ہیں جو برطانیہ میں کم عمر بچے بچیوں کو پھانس کر ان کا منظم جنسی استحصال کرتے تھے۔ ماہرین کے مطابق گرومنگ گینگز کا مسئلہ صرف مجرمانہ کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی، ادارہ جاتی اور نفسیاتی عوامل سے جڑا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ متعدد متاثرین آج بھی ان واقعات کے جسمانی اور ذہنی اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی وہ مدد اور معاونت نہیں مل سکی جس کی انہیں ضرورت تھی۔

’میں لڑکیوں کو اسکول سے نکل کر ٹیکسیوں میں غائب ہوتے دیکھتی تھی‘

اسی تناظر میں برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں خدمات انجام دینے والی ایک سابق سوشل ورکر نے اپنے مشاہدات اور تجربات بیان کیے ہیں جن کے مطابق انہوں نے کئی دہائیاں قبل ہی ایسے اشارے دیکھ لیے تھے جو بعد میں سامنے آنے والے گرومنگ گینگز اسکینڈل کی سنگینی کی عکاسی کرتے تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کے دوران اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سابق سوشل ورکر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سنہ 1980 اور سنہ 1990 کی دہائیوں میں متعدد کم عمر لڑکیوں کو اسکول سے نکلنے کے بعد ٹیکسیوں میں سوار ہو کر ’غائب‘ ہوتے دیکھا تاہم اُس وقت ان کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

مزید پڑھیے: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا بین الاقوامی گروہ بے نقاب، سنسنی خیز انکشافات

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش رکھنے والی اس سابق سوشل ورکر نے بتایا کہ وہ روزانہ دوپہر کے وقت ایک سیکنڈری اسکول کے قریب سے گزرتی تھیں جہاں انہیں ایک ہی منظر بار بار دکھائی دیتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کے باہر ٹیکسیاں کھڑی ہوتیں، لڑکیاں اسکول سے نکل کر ان کی پچھلی نشستوں میں بیٹھ جاتیں اور پھر غائب ہو جاتیں۔

ان کے مطابق وہ عام انداز میں نہیں بیٹھتی تھیں بلکہ ایسا لگتا تھا جیسے وہ خود کو دوسروں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آ رہے تھے جب بچوں کے منظم جنسی استحصال کا معاملہ ابھی قومی سطح کا اسکینڈل نہیں بنا تھا اور نہ ہی اس حوالے سے عوامی تحقیقات، عدالتی مقدمات یا سیاسی بحث شروع ہوئی تھی۔

سابق سوشل ورکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خدشات سے اسکول انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا تھا کیونکہ یہ صورتحال انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر رہی تھی۔

گرومنگ گینگز اسکینڈل کی تحقیقات کی سربراہ بیرونس این لانگ فیلڈ۔

اب تقریباً 4 دہائیوں بعد انہی سوالات کو برطانیہ میں گرومنگ گینگز کے حوالے سے جاری قانونی تحقیق کے مرکز میں جگہ مل رہی ہے جس کی سربراہی بیرونس این لانگ فیلڈ کر رہی ہیں۔

سابق سوشل ورکر کے مطابق بہت سی لڑکیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ جنسی استحصال کا شکار ہو رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ استحصال ہے اور ہمیں انہیں یہ سمجھانے میں خاصی تگ و دو کرنی پڑتی تھی۔

ان کے مطابق ان میں سے بہت سی لڑکیاں گھریلو مسائل اور مشکلات سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں اور جو چیز انہیں آزادی، محبت یا خودمختاری محسوس ہوتی تھی درحقیقت وہ استحصال کا ایک جال تھا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی نے انسداد زنا بالجبر ترمیمی بل کی منظوری دیدی، بچوں کا استحصال ناقابل ضمانت جرم قرار

سابق سوشل ورکر نے بتایا کہ آج بھی وہ ان خواتین کے ساتھ کام کر رہی ہیں جو ان تجربات کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ ان میں سے بعض خواتین اب 50 برس کی عمر کو پہنچ چکی ہیں لیکن انہیں آج تک وہ معاونت اور مدد فراہم نہیں کی گئی جس کی انہیں ضرورت تھی۔

برطانیہ کی ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران گروہی نوعیت کے بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں تحقیقات کے نتیجے میں 242 افراد کو سزائیں دی جا چکی ہیں جبکہ اب بھی 57 تحقیقات جاری ہیں جن میں سے 24 بریڈفورڈ اور کیگلی سے متعلق ہیں۔

تاہم سابق سوشل ورکر کا کہنا ہے کہ محض مجرموں کو سزا دینا کافی نہیں بلکہ اس بات کا جواب بھی تلاش کرنا ضروری ہے کہ آخر اتنے واضح اشاروں کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ اگر لڑکیاں غائب ہو رہی تھیں تو کسی نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی ہیں یہ سوالات کیوں نہیں اٹھائے گئے؟ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ اس معاملے پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی تھی۔

ان کے مطابق کمیونٹی کے اندر ایسے لوگ موجود تھے جو خدشات ظاہر کر رہے تھے لیکن ہمیں محفوظ طریقے سے یہ کام کرنے کے لیے حمایت، تحفظ اور وسائل کی ضرورت تھی جو ہمیں فراہم نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے وائی فائی راؤٹر کتنا مفید ثابت ہوسکتا ہے؟

سابق سوشل ورکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنسی استحصال کا شکار صرف سفید فام لڑکیاں نہیں تھیں بلکہ ایشیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں بھی متاثر ہوئیں۔

ان کے مطابق بہت سی ایشیائی لڑکیاں شرمندگی، خاندانی عزت اور بدنامی کے خوف کی وجہ سے کبھی سامنے نہیں آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس معاملے پر عوامی بحث ایک مخصوص سمت میں چلی گئی جبکہ متاثرین مختلف نسلی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی متاثرین اور بچ جانے والوں کے تجربات پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی دی جانی چاہیے۔

سابق سوشل ورکر کا کہنا ہے کہ بیرونس این لانگ فیلڈ کی تحقیق کا مقصد صرف یہ تعین کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ ماضی میں کس نے غلطی کی بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خطرے کی علامات کو کیوں نظر انداز کیا گیا، کچھ متاثرین کی بات دیر سے ہی سہی لیکن کیوں سنی گئی جبکہ دوسروں کی آواز کیوں دبا دی گئی۔

تحقیقاتی کمیشن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنائے گا۔

سابق سوشل ورکر کے مطابق ان خواتین کے لیے جن کی وہ آج بھی مدد کر رہی ہیں انصاف کا مطلب صرف احتساب نہیں بلکہ یہ ہے کہ آخرکار انہیں دیکھا جائے ان کی بات پر یقین کیا جائے اور انہیں سنا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بہت سی خواتین اس تحقیق کو خبروں میں دیکھ رہی ہوں گی اور سوچ رہی ہوں گی کہ یہ سب میرے ساتھ بھی ہوا تھا لیکن کوئی مجھ سے نہیں پوچھ رہا کہ میں کیسا محسوس کرتی ہوں۔

مزید پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

ان کے مطابق اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا یہ تحقیق صرف ان لوگوں کی آواز بنے گی جن کی کہانیاں پہلے ہی منظر عام پر آ چکی ہیں یا پھر ان افراد کو بھی سنا جائے گا جن کی داستانیں اب تک کہیں گم اور نظروں سے اوجھل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایس سی او سربراہی اجلاس کی تیاریاں، اسحاق ڈار کی متعلقہ اداروں کو کام تیز کرنے کی ہدایت

بلدیہ فیکٹری سانحہ: سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے 2 ملزمان بری کردیے، تفصیلی فیصلہ جاری

خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟

معرکہ حق میں شکست کے بعد دشمن بے امنی پھیلانا چاہتا ہے، انتشارپھیلانے والی ہر کوشش کو کچلا جائےگا، کور کمانڈرز کانفرنس

کیا ریکھا نے واقعی حسن جہانگیر کو محبت نامہ لکھا تھا؟ پاکستان کے لیجنڈری پاپ سنگر نے دلچسپ جواب دے دیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے، بلاول بھٹو زرداری

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

کالم / تجزیہ

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت