خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورک ایکسپیرینس کے دوران ایک خلائی ٹوائلٹ کی صفائی کرنا کلیئر پارفٹ کے لیے خلا کی دنیا میں کیریئر کا پہلا عملی تجربہ تھا تاہم اس وقت انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ 14 سال کی عمر میں حاصل ہونے والا یہ تجربہ ایک دن انہیں مستقبل کے مریخ مشنز کی منصوبہ بندی کرنے والی ٹیموں کی قیادت تک پہنچا دے گا۔

یہ بھی پڑھیں : کیا ناسا کو مریخ پر قدیم زندگی کے شواہد مل گئے؟ نئی دریافت نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا

برطانیہ کے شہر ناٹنگھم سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ کلیئر پارفٹ اس وقت نیدرلینڈز میں یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے یورپی خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی مرکز میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

کلیئر پارفٹ نے فزکس میں ڈگری اور خلائی جہازوں کے پاور سسٹمز انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد خلائی صنعت میں قدم رکھا۔ اس کے بعد وہ متعدد اہم خلائی منصوبوں کا حصہ رہ چکی ہیں جن میں ایکسو مارس روزالینڈ فرینکلن روور مشن بھی شامل ہے جو مستقبل میں مریخ کی سطح کا تفصیلی مطالعہ کرے گا۔

انہوں نے ’اسمائل‘ مشن پر بھی کام کیا جس کا مکمل نام ’سولر ونڈ، میگنیٹوسفیرک، آئیونک لنک ایکسپلورر‘ ہے۔ یہ مشن 4 سائنسی آلات کی مدد سے اس بات کا مطالعہ کرتا ہے کہ سورج سے آنے والی شمسی ہواؤں پر زمین کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

کلیئر پارفٹ کا کہنا ہے کہ ان کے ابتدائی دور میں اساتذہ اور سرپرستوں کی حوصلہ افزائی نے ان کے کیریئر کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ووولاٹن کے فرنووڈ اسکول میں اپنے سائنس اساتذہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

مزید پڑھیے: خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

انہوں نے ابتدا میں امریکی خلائی ادارے ناسا میں ورک ایکسپیرینس کے لیے درخواست دی تھی تاہم ان کی درخواست مسترد ہو گئی۔ بعد ازاں انہیں برطانیہ کے نیشنل اسپیس سائنس سینٹر میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

اس وقت نیشنل اسپیس سینٹر کے افتتاح کی تیاریاں جاری تھیں اور عملہ مختلف خلائی نوادرات اور نمائشوں کو جمع کرنے اور ترتیب دینے میں مصروف تھا۔

کلیئر پارفٹ کے مطابق مجھے ہمیشہ سے معلوم تھا کہ میں اپنی زندگی میں یہی کرنا چاہتی ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر ایلکس ہال تھیں اور ایک خاتون کو اس اہم عہدے پر دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ وہ بھی خلائی صنعت میں اپنا مستقبل بنا سکتی ہیں۔

کلیئر پارفٹ نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2001 میں اسپیس سینٹر کے افتتاح سے قبل مختلف نمائشیں اور اشیا دفاتر میں لائی جا رہی تھیں۔ ان میں ایک خلائی ٹوائلٹ بھی شامل تھا جسے انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اس خلائی ٹوائلٹ کو کھولنے اور صاف کرنے میں مدد کی اور ظاہر ہے کہ اسے محفوظ رکھنے کے لیے صفائی اور دیکھ بھال کی ضرورت تھی اور یہ خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی ایک منفرد ٹیکنالوجی تھی جسے دیکھنا میرے لیے انتہائی دلچسپ تجربہ تھا۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک کا مریخ کے بجائے چاند پر شہر بسانے کے منصوبے کو بنیادی ترجیح بنانے کا اعلان

انہوں نے برطانوی خلا باز ہیلن شرمن کا خلائی لباس کھولنے اور محفوظ کرنے کے کام میں بھی حصہ لیا۔ ہیلن شرمن خلا میں جانے والی پہلی برطانوی شخصیت تھیں۔ کلیئر کے مطابق اس خلائی لباس کو کھولنا کسی خزانے کا صندوق کھولنے جیسا تجربہ تھا۔

گزشتہ 25 برسوں میں نیشنل اسپیس سینٹر تقریباً 60 لاکھ زائرین کی میزبانی کر چکا ہے۔

کلیئر پارفٹ نے اسپیس سینٹر کو ایک انتہائی متاثر کن جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کم عمری میں اس ادارے سے وابستگی نے ہی انہیں آج کے مقام تک پہنچایا۔

سنہ 2019 میں برطانوی خلائی صنعت میں کئی سال کام کرنے کے بعد وہ نیدرلینڈز میں یورپی خلائی ایجنسی کے یورپی خلائی تحقیق و ٹیکنالوجی مرکز سے وابستہ ہو گئیں۔

اپنے کیریئر کو ’خواب کی تعبیر‘ قرار دینے والی کلیئر پارفٹ اس وقت یورپی خلائی ایجنسی میں مستقبل کے انسانی اور روبوٹک مریخ مشنز کی منصوبہ بندی کرنے والی ٹیم کی سربراہی کر رہی ہیں۔

وہ بین الاقوامی مریخ تحقیقاتی ورکنگ گروپ کی چیئرپرسن بھی ہیں۔

کلیئر پارفٹ کا کہنا ہے کہ مریخ ایک ایسا سیارہ ہے جس کا مطالعہ اور تحقیق سائنسی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب روزالینڈ فرینکلن مشن سال 2028 میں روانہ ہوگا تو یہ ایک انتہائی پُرجوش لمحہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: خاتون خلا باز کی قیادت میں ناسا کا نیا خلائی مشن روانہ ہونے کو تیار

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی تیاری کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے اور آنے والی دہائیوں کی منصوبہ بندی انتہائی احتیاط سے کرنا ہوگی تاکہ مریخ کو محفوظ رکھا جا سکے اور یورپ کے لیے بہترین سائنسی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp