دل کے دورے اور فالج کے علاج میں انقلاب، ننھی گلہری امید کی کرن بن گئی

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کے سرد ترین خطوں میں پائے جانے والے ایک ننھے سے جانور آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرل (قطب شمالی کی زمینی گلہری) نے سائنسدانوں کو انسانی طب میں ممکنہ انقلاب کی نئی امید دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا معصوم گلہریاں کوڑھ کے پھیلاؤ کی ذمے دار ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جانور کی غیرمعمولی صلاحیت جس کے تحت یہ اپنے جسم کے درجہ حرارت کو نقطۂ انجماد سے بھی نیچے لے جا کر مہینوں تک زندہ رہ سکتی ہے مستقبل میں دل کے دورے، فالج، دماغی چوٹوں اور دیگر ہنگامی طبی حالات کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرل شمالی امریکا، الاسکا اور سائبیریا کے انتہائی سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ہر سال موسمِ سرما سے قبل یہ گلہری خوراک ذخیرہ کرنے کے بجائے اپنے جسم میں چربی جمع کرتی ہے اور پھر زیر زمین بل میں جا کر تقریباً 8 ماہ تک گہری ہائبرنیشن (خوابِ سرما) کی حالت میں رہتی ہے۔

حیران کن طور پر اس دوران اس کے جسم کا درجہ حرارت انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کا دماغ صفر ڈگری سینٹی گریڈ، پیٹ منفی 2 ڈگری اور بعض اعضاء منفی 2.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈے ہو جاتے ہیں جو کسی بھی زندہ ممالیہ جانور میں ریکارڈ کیا گیا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران جانور کی سانسیں اور دل کی دھڑکن انتہائی سست ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ جانور زندہ ہے یا نہیں۔

امریکا کی یونیورسٹی آف الاسکا فیئربینکس کے سائنسدان گزشتہ 50 برس سے آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرلز پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ جانور اتنی طویل مدت تک انتہائی کم درجہ حرارت میں کیسے زندہ رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: گاڑی خراب کرنے کا ماہر چوہا کن گاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر انسانوں میں بھی محفوظ طریقے سے جسمانی میٹابولزم کو عارضی طور پر سست کیا جا سکے تو اس سے ڈاکٹروں کو دل کے دورے، فالج، شدید چوٹوں اور دیگر ہنگامی حالات میں مریضوں کو بچانے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

تحقیق سے وابستہ سائنسدان سارہ رائس کے مطابق اگر انسانی جسم کے میٹابولزم کو محفوظ طریقے سے طویل عرصے کے لیے سست کیا جا سکے تو یہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت ہوگی۔

سائنسدان کیلی ڈریو اور ان کے ساتھیوں نے ایک اہم دریافت کرتے ہوئے بتایا کہ ایڈینوسین نامی قدرتی مالیکیول آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرلز میں ہائبرنیشن کے عمل کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو انسانی دماغ میں دن بھر جمع ہوتا رہتا ہے اور رات کے وقت غنودگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے ایڈینوسین سے مشابہ ایک مرکب سکس این سائیکلو ہیکزائل ایڈینوسین (سی ایچ اے) کو آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرلز کے دماغ میں داخل کیا جس کے بعد وہ گلہریاں ہائبرنیشن جیسی حالت میں چلی گئیں، ان کا میٹابولزم سست ہو گیا اور جسم کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: ایک گلہری کی موت امریکی صدارتی انتخابات کا موضوع کیوں؟

حیران کن طور پر یہی تجربہ ایسے چوہوں پر بھی کامیاب ثابت ہوا جو قدرتی طور پر ہائبرنیشن نہیں کرتے۔ اس سے سائنسدانوں کو امید پیدا ہوئی کہ مستقبل میں انسانوں میں بھی ایسی کیفیت پیدا کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کو انسانوں پر لاگو کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ دماغ میں براہِ راست ادویات دینا عملی طور پر ممکن نہیں اور بعض ادویات کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

سائنسدان ڈومینیکو ٹوپونے اور ان کی ٹیم انسانی جسم میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے دماغی نظام پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے مخصوص عصبی خلیات کو عارضی طور پر غیر فعال کیا جا سکے تو انسانوں میں بھی ایک محفوظ ہائبرنیشن جیسی حالت پیدا کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی مستقبل میں نہ صرف ہنگامی طبی امداد بلکہ اعضا کی پیوندکاری، کینسر کے علاج اور حتیٰ کہ طویل خلائی سفر کے دوران بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرلز کم آکسیجن کی صورتحال میں جسمانی اعضا کو نقصان سے بچانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ خوابِ سرما کے دوران ان کے جسم میں آئیوڈائیڈ کی مقدار کئی گنا بڑھ جاتی ہے جو دل اور دیگر اعضا کو آکسیجن کی کمی سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی بنیاد پر سائنسدان انسانوں میں بھی آئیوڈائیڈ پر مبنی ادویات کی آزمائش کر رہے ہیں اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب محققین آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرلز کی اس صلاحیت کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں کہ وہ 8 ماہ تک تقریباً مکمل بے حرکتی کے باوجود اپنے پٹھوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے جبکہ ان کی بھوک بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں موٹاپے اور پٹھوں کی کمزوری کے علاج میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فٹبالرز کو ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض کے خدشات کیوں رہتے ہیں؟ بچاؤ کا طریقہ سامنے آگیا

اگرچہ انسانوں میں مصنوعی ہائبرنیشن کا خواب ابھی حقیقت سے دور ہے تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرل جیسے ننھے جانور کی غیرمعمولی حیاتیاتی صلاحیتیں مستقبل کی طب میں انقلابی تبدیلیوں کا دروازہ کھول سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp