خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکن اور سابق اسپیکر مشتاق غنی نے کہا ہے کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ان کی جدوجہد عمران خان کی رہائی تک جاری رہے گی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ رواں ہفتے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات میں عمران خان کی رہائی کی حکمتِ عملی پر سوال کیا جائےگا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کارکنان جلسہ منسوخی پر ناراض، قیادت کے لیے چوڑیوں کا تحفہ پیش کردیا
انہوں نے کہاکہ انہیں پارٹی کے ناراض رکن کا خطاب دیا گیا ہے، جبکہ کچھ لوگ انہیں ہم خیال کہتے ہیں۔ مشتاق غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ہم خیال اراکین جن کی تعداد 35 تک ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد شروع کر چکے ہیں اور قیادت سے سوال کررہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ناراض کا خطاب دیا گیا ہے۔
’حقیقت میں ہم سب سے ناراض ہیں، قیادت سے سوال کرتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے کیا کررہے ہیں۔‘
’ناراض نہیں ہیں، ہم صرف عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں‘
انہوں نے کہاکہ ہم خیال اراکین کو عمران خان کی فکر ہے، وہ 3 سال سے جیل میں ہیں اور قیادت کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب بھی قیادت سے پوچھا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے پاس ہیں جبکہ احتجاج اور لانگ مارچ کی کال بھی وہی دے سکتے ہیں۔
مشتاق غنی نے کہاکہ ناراض اراکین کی پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر قائدین سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں موقف اپنایا گیا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کے تمام اختیارات عمران خان نے خود محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دیے ہیں اور وہی کال دے سکتے ہیں۔ جبکہ ناراض اراکین کی ان سے ملاقات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ناراض نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں اور اسی حوالے سے سوال کرنے پر انہیں ناراض کہا جاتا ہے۔ ’ہم کسی سے ناراض نہیں ہیں، نہ کسی کے خلاف ہیں۔ نہ بجٹ تک ہمارا کوئی ایجنڈا تھا۔‘
مشتاق غنی نے کہاکہ وہ سہیل آفریدی کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ بنیادی طور پر احتجاج یا لانگ مارچ سہیل آفریدی کا مینڈیٹ نہیں ہے اور یہ پارٹی قیادت کے پاس ہے، ایسے میں کوئی بھی کال پارٹی قیادت ہی دے سکتی ہے۔
’ناراض اراکین کال نہیں دے سکتے‘
مشتاق غنی سے جب لانگ مارچ یا احتجاج کی کال کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین تنہا لانگ مارچ یا احتجاج کی کال نہیں دے سکتے۔ لانگ مارچ کی کال پورے پاکستان کے لیے ہونی چاہیے اور وہ قیادت ہی دے سکتی ہے۔
’یہ مذاق نہیں ہے کہ احتجاج یا لانگ مارچ کی کال دی جائے۔ پورے پاکستان کے لیے مرکزی قیادت ہی کال دے سکتی ہے اور پورا پاکستان نکلے گا۔‘
انہوں نے کہاکہ احتجاج اور لانگ مارچ کے لیے مکمل تیاری کی ضرورت ہے اور اس وقت کارکنان ناراض ہیں، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ مرکزی قیادت کی جانب سے کال کے بعد صوبائی سطح پر قیادت کارکنوں کو نکالنے کی ذمہ دار ہوگی۔ ’اگر کال دی گئی تو سہیل آفریدی صوبے میں کارکنوں کو نکالیں گے۔‘
’بجٹ میں تھرو فارورڈ کو کم کرنے کی ضرورت ہے‘
بجٹ پر بات کرتے ہوئے مشتاق غنی نے کہاکہ سہیل آفریدی کی حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود بہتر بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی ضرورت تھی۔ اس بار 1200 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جس سے تھرو فارورڈ بہت طویل ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی الگ گروپ بنانے والے ہیں؟
مشتاق غنی نے کہاکہ صوبے کے مالی معاملات کا دارومدار وفاق پر ہے اور وفاق کے ذمے مختلف مدات میں بقایاجات بہت زیادہ ہیں، جو ادا نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے ہزارہ پیکج کو تاریخی قرار دیا، تاہم کہاکہ اس میں رواں سال کے لیے مختص رقم بہت کم ہے۔ اس معاملے کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ اٹھایا گیا، جس پر اضافے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔













