عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے نزدیک نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آنے کے باعث ایک تیل بردار جہاز میں آگ لگ گئی۔
یہ واقعہ دنیا کی اہم ترین توانائی کی بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے قریب پیش آیا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود دیرپا امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔
یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق کے مطابق واقعہ عمان کے علاقے لیماہ سے تقریباً 8 بحری میل مشرق میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ
ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنوب کی جانب سفر کرنے والے ایک آئل ٹینکر کے بائیں جانب نامعلوم پروجیکٹائل لگا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
تاہم، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یو کے ایم ٹی او نے بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
Oil tanker hit by 'unknown projectile' near Strait of Hormuz, sparking fire #MaritimeSecurity #Oman #StraitOfHormuzhttps://t.co/nkRNKWJkCk
— Mathrubhumi English (@mathrubhumieng) July 7, 2026
ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے 2 نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کم از کم 2 تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایک دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے نمایاں نقصان پہنچا۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، جبکہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے بھی فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: آئل ٹینکر پر قزاقوں کا قبضہ، یرغمال عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز شدید کشیدگی کا مرکز بنی رہی، جب ایران نے اس اہم بحری راستے پر پابندیاں عائد کیں اور متعدد تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آئے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
بعد ازاں امریکا نے بھی بحری کارروائیاں کرتے ہوئے ایران پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور جوابی حملے کیے۔
گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس بحری راستے پر تجارتی آمدورفت بحال ہوئی تھی، جس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور اس اہم گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا تھا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے اور اسے ماضی میں کب کب بند کیا گیا؟
تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ سے پہلے کے انتظامات بحال نہیں کیے جائیں گے، جن کے تحت جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے تھے۔
تہران نے بحری جہازوں کو اپنی ساحلی پٹی کے ساتھ مقرر کردہ مخصوص بحری راہداری استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیجی ممالک سے ایشیا سمیت عالمی منڈیوں تک تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے سب سے اہم بحری راستہ تصور کی جاتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2024 کے دوران روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اس آبی گزرگاہ سے منتقل کیا گیا، جو عالمی خام تیل کی مجموعی ترسیل کا تقریباً 5واں حصہ بنتا ہے۔














