325 ملین ڈالر رشوت لینے پر سرکاری افسر کو سزائے موت

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی ایک عدالت نے 2.21 ارب یوان (قریباً 325 ملین امریکی ڈالر) سے زائد رشوت وصول کرنے کے جرم میں سابق سرکاری افسر یانگ یولن کو سزائے موت سنا دی۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق یانگ یولن، مشرقی شہر نانجنگ کے ایک اقتصادی زون کے سابق نائب ڈائریکٹر تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے 2013 سے 2023 کے درمیان بھاری رشوت وصول کی۔

مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری سانحہ: سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے 2 ملزمان بری کردیے، تفصیلی فیصلہ جاری

جیانگ سو صوبے کی چانگ ژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے یانگ یولن کو رشوت ستانی کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا۔

عدالت کے مطابق ملزم کے جرائم غیر معمولی سنگین نوعیت کے تھے، جن کے باعث ریاست کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یانگ یولن کے خلاف تحقیقات صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران کی گئیں، جو سرکاری اور فوجی اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کئی برسوں سے جاری ہے۔

چین میں مالی بدعنوانی کے مقدمات میں سزائے موت نسبتاً کم سنائی جاتی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بڑے مالیاتی جرائم میں ملوث بعض اعلیٰ عہدیداروں کو بھی سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں:نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے ایک بار پھر بدعنوانی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ان تمام جراثیم کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جو پارٹی اور ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں، اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp