سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جنہوں نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ مطلوبہ معلومات فوری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔
ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ ٹیکس دہندگان کی تفصیلات کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری نہیں کی جا سکتیں، اس لیے مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر سے تمباکو پر ٹیکس وصولیوں کا 20سالہ ریکارڈ طلب کرلیا
اس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ادارے میں بے ضابطگیاں سامنے آنے پر ہمیشہ ایسے ہی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایف بی آر نے معلومات فراہم نہ کیں تو وزیراعظم خود کمیٹی میں یہ ریکارڈ پیش کریں گے اور غلط بیانی کرنے والے افسران کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اجلاس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے، تمباکو پر ٹیکس وصولی، اسمگلنگ، منشیات کی روک تھام، آگاہی مہمات اور ایف بی آر کے نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں 35 تمباکو کمپنیاں مختلف برانڈز کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جبکہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کو حاصل انکم ٹیکس چھوٹ جولائی 2026 سے ختم ہو چکی ہے۔
سینیٹر ابڑو نے سوال اٹھایا کہ تمباکو ٹیکس چوری سے متعلق وزیراعظم کو اشتہار جاری ہونے سے قبل درست معلومات فراہم کی گئی تھیں یا نہیں۔
انہوں نے ایف بی آر کو اپنے اندرونی نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل انتظامی ناکامیوں سے عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ سے متعلق وضاحت کردی
انہوں نے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری کے واقعے میں مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران سابق فاٹا کے لیے درآمد کی جانے والی چائے کے حجم پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
سینیٹر ابڑو نے کہا کہ اگر اس علاقے کے لیے سالانہ 62 ارب روپے مالیت کی چائے درآمد کی جا رہی ہے تو کیا واقعی وہاں اتنی کھپت موجود ہے یا اس کی آڑ میں ٹیکس چوری اور اسمگلنگ ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ، ایف بی آر نے لسٹ جاری کر دی
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایف بی آر کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کی جائیں گی۔
اجلاس میں 398 کلوگرام چاندی کی چوری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر کسٹمز حکام نے بتایا کہ ایف آئی اے نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور چوری شدہ چاندی کا بڑا حصہ برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ اس مقدمے میں ایف بی آر کے 2 انسپکٹرز، ایک نجی شخص اور بعض کسٹمز اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دیگر سینیٹرز نے بھی ایف بی آر کے احتسابی نظام، ٹیکس انتظامیہ اور تحقیقات کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔














