وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی منڈیوں سے نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے یورو بانڈ، سکوک اور پہلی مرتبہ ڈالر میں طے ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ نے عالمی سرمایہ کاری بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ ان سے بانڈز کے ڈھانچے، متوقع منافع کی شرح اور سرمایہ کاری کے حجم سے متعلق سفارشات مانگی گئی ہیں، جس کے بعد مشیر، منتظمین اور دیگر متعلقہ اداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈز کے اجرا کا اعلان
کراچی میں منعقدہ پاکستان بینکاری سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ مؤثر انداز میں واپسی چاہتی ہے اور بیرونی قرضوں کی مدت کو بھی طویل بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بانڈز زیادہ تر پہلے سے موجود قرضوں کی جگہ لینے کے لیے ہوں گے، نہ کہ نئے قرضوں میں اضافے کے لیے۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل 2026 میں حکومت نے چار سال بعد عالمی مالیاتی منڈی میں کامیاب یورو بانڈ جاری کیا تھا، جس میں سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث اجرا کا حجم بڑھا کر 75 کروڑ امریکی ڈالر کر دیا گیا تھا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مئی 2026 میں پاکستان نے پہلی مرتبہ 25 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کا پانڈا بانڈ بھی جاری کیا، جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے پانچ گنا زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں اور ملک کو تین سالہ مدت کے لیے ریکارڈ کم شرح پر قرض حاصل ہوا۔
محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بینکوں سے قرضوں کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے مطلوبہ مالی سہولتیں نہیں مل رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹاسک فورس کی قیادت اسٹیٹ بینک کرے گا، جبکہ اس میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ایوان ہائے تجارت اور صنعت اور وزارت خزانہ کے نمائندے شامل ہوں گے، جو کاروباری اداروں کے لیے قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کی سفارشات مرتب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے جزوی ضمانتی اسکیموں کو مزید وسعت دے گی، جبکہ برآمدی شعبے کے لیے ضرورت کے مطابق رعایتی مالی سہولتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی بینکوں سے قرض لینے پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے مالیاتی ذرائع متعارف کرائے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک نے ‘انویسٹ پاک’ کے نام سے ایک ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم بھی شروع کیا ہے، جس کے ذریعے افراد اور ادارے براہ راست حکومتی سرمایہ کاری کے سرٹیفکیٹس اور قلیل مدتی مالیاتی دستاویزات میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت چار سے پانچ سالہ مدت پر مشتمل درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی متعارف کرائے گی تاکہ سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ مستقبل کی ٹیکس پالیسی کے بارے میں واضح اندازہ حاصل کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی منظوری کے بعد ٹیکس انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جا رہی ہیں، جن کے تحت ٹیکس افسران کے اختیارات محدود کیے جائیں گے اور مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس وصولی کے عمل میں انسانی مداخلت کم سے کم کی جائے گی۔














