کے ٹو ایئرویز: حادثے سے قبل کارگو طیارے نے اے ٹی سی کو کیا بتایا؟

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا ایک مال بردار طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بوئنگ 737 طیارہ شارجہ سے سامان لے کر کراچی کی جانب آ رہا تھا اور رات کے وقت اس کا رابطہ اچانک منقطع ہوگیا۔

مزید پڑھیں:امریکا: یو پی ایس کارگو طیارہ گر کر تباہ، کم از کم 3 ہلاک، 11 زخمی

سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ کراچی کے قریب سمندر سے مل گیا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچوں لاشیں نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دیں۔

جاں بحق ہونے والے تمام افراد پاکستانی تھے

ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار تمام 5 افراد پاکستانی شہری تھے، جو دورانِ ڈیوٹی اس المناک حادثے کی نذر ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں کیپٹن محمد رضوان ادریس، کو پائلٹ فیصل جتوئی، فلائٹ انجینئر محمد حامد، فلائٹ انجینئر محمد عارف صدیق اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ KTA1732، بوئنگ 737-400 (رجسٹریشن AP-BOI) شارجہ سے کراچی آ رہا تھا کہ رات 9 بج کر 18 منٹ پر، کراچی سے قریباً 150 ناٹیکل میل جنوب میں فضائی راستے G216 پر طیارے نے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی اور رہنمائی کے لیے ہیڈنگ طلب کی۔

مزید پڑھیں:ترکیہ کا فوجی کارگو طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا خدشہ

اے ٹی سی نے طیارے کو موجودہ سمت برقرار رکھنے کی ہدایت کی، تاہم اسی دوران طیارہ دائیں جانب مڑنے لگا اور تیزی سے بلندی کھونے لگا۔ اس کے بعد طیارے سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ رات 9 بج کر 21 منٹ پر کراچی سے قریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق، پرواز کے دوران نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع ملنے پر کراچی اے سی سی نے طیارے کو فوری رہنمائی فراہم کی، تاہم طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آیا اور اس کی سمت بھی تبدیل ہوگئی۔ ترجمان کے مطابق کراچی سے قریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارہ بیک وقت ریڈار اور مواصلاتی رابطے سے محروم ہوگیا۔

ایئر ٹریفک کنٹرول ذرائع کے مطابق لاپتا طیارے کے پائلٹ نے آخری لمحوں میں ’مے ڈے کال‘ نہیں دی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہنگامی صورتحال اس قدر اچانک پیدا ہوئی کہ پائلٹ کو مے ڈے کال دینے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں وہ 5 تک موجود رہا۔ مرمت کے بعد طیارہ فیری فلائٹ (خالی پرواز) کے ذریعے کراچی واپس آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق شارجہ میں طیارے کی مرمت Northern Techniques نامی کمپنی نے کی تھی۔

مزید پڑھیں:شارجہ سے کراچی آنیوالا کارگو طیارہ سمندر میں گر کر تباہ، 2 پائلٹ سمیت 5 افراد جاں بحق

سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور ایئر کریش انویسٹی گیشن بیورو نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ طیارے کے بلیک باکس کی تلاش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس میں موسم نے بھی کوئی کردار ادا کیا۔ جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے، جبکہ ایئرپورٹ پر قائم خصوصی سیل مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پر خواجہ آصف سمیت اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی شدید تنقید

شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

ویڈیو

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان