کیوبا میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار پورے ملک میں بجلی کا نظام اچانک معطل ہوگیا، جس سے جزیرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔
مزید پڑھیں:کمیونسٹ نظام میں بڑی تبدیلی: کیوبا نے آزاد منڈی کی معاشی اصلاحات کی منظوری دے دی
سرکاری بجلی کمپنی ’یونین الیکٹرکا‘ کے مطابق بلیک آؤٹ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے 4 بجے شروع ہوا، تاہم فوری طور پر اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
Island-wide blackout strikes Cuba for second time this week.
Officials had also confirmed the first total power outage, which happened on Monday, although it wasn’t clear what caused it.
Authorities at the time said an investigation was underway.
Fuel has been running out… pic.twitter.com/fUzaLMMWLs
— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 11, 2026
رپورٹ کے مطابق رواں سال یہ ملک گیر بلیک آؤٹ کا چوتھا واقعہ ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق پرانا بجلی کا نظام، ایندھن کی شدید قلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر عائد سخت پابندیوں کے باعث توانائی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں:کیوبا کی امریکا کو سخت وارننگ، فوجی کارروائی ہوئی تو ’خونریزی‘ ہوگی
کیوبا کا مؤقف ہے کہ امریکی پابندیوں اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ نے بجلی کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ واشنگٹن اس بحران کا ذمہ دار کیوبا کی داخلی بدانتظامی کو قرار دیتا ہے۔














