صوبہ غور میں سابق افغان جمہوریہ دور کے کمانڈر عبداللہ رحیمی کے قتل کے بعد طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عام معافی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق افغان حکام اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مسلسل قتل، گرفتاریوں اور لاپتا کیے جانے کے واقعات طالبان کے دعووں کی نفی کرتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ بھی اس حوالے سے متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر چکی ہے۔
صوبہ غور میں سابق افغان جمہوریہ دور کے کمانڈر عبداللہ رحیمی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران قتل کیے جانے والے تیسرے سابق افغان کمانڈر ہیں، جس کے بعد طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عام معافی پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ
ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق افغان حکام کے ہر نئے قتل کے ساتھ طالبان کی نام نہاد عام معافی کو دوحہ معاہدے کے بعد کیے گئے سب سے بڑے فریبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق سرکاری اہلکاروں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے افغانستان مشن بھی سابق افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کی دستاویز بندی کرتا رہا ہے۔ یو این اے ایم اے کے مطابق صرف جنوری سے مارچ 2025 کے دوران ماورائے عدالت قتل کے 6 اور من مانی گرفتاریوں کے 23 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں بدخشان میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سابق نائب سربراہ، پکتیکا میں سابق پولیس افسر محمد عمر، اغوا کے بعد قتل کیے گئے سابق فوجی کمانڈر حشمت اللہ اور اب صوبہ غور میں عبداللہ رحیمی قتل کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان اب بھی امریکی شہریوں کو یرغمال بنا رہے ہیںِ، امریکی محکمہ خارجہ
ناقدین کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے میں سابق حکام کے تحفظ، مفاہمت، بین الافغان مذاکرات، جامع سیاسی تصفیے اور افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، تاہم ان کے مطابق طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان وعدوں پر عمل نہیں کیا۔
بیانیے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی مسلسل رپورٹس افغانستان میں طالبان کے زیرِ اثر 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور نقل و حرکت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق دوحہ معاہدے کے بعد طالبان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی بار بار خلاف ورزی نے عام معافی، انسداد دہشتگردی، طرز حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق ان کے دعوؤں کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔














