میٹر پالیسی پر رکشہ ڈرائیوروں کے تحفظات، مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کا الزام

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

 

 

کراچی میں آٹو اور چنگچی رکشوں پر میٹر لازمی قرار دینے کی تجویز نے ہزاروں ڈرائیوروں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں صرف وہی رکشے سڑکوں پر چل سکیں گے جن میں میٹر نصب ہوگا، جبکہ چنگچی رکشوں کو مرکزی شاہراہوں سے ہٹانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس اعلان کے بعد رکشہ ڈرائیوروں اور شہریوں کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: معذور افراد کو مفت پک اینڈ ڈراپ سروس دینے والا رکشہ ڈرائیور

شہر کے مختلف علاقوں میں روزگار کمانے والے رکشہ ڈرائیور فراز کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سواری کم ہو چکی ہے جبکہ سی این جی اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

ان کے مطابق، ’ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ بچوں کا پیٹ پالیں، ان کی تعلیم کا خرچ اٹھائیں یا رکشے میں میٹر لگوائیں۔‘

ایک اور رکشہ ڈرائیور شبیر نے بتایا کہ ابھی تک انہیں یہ معلوم نہیں کہ میٹر کہاں سے ملے گا اور اس کی قیمت کتنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ غریب ڈرائیوروں کو فوری پابندیوں کا سامنا کرانے کے بجائے مناسب وقت دے یا پھر میٹر مفت فراہم کرے۔

بلال جو کئی برسوں سے رکشہ چلا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر بغیر میٹر رکشے بند کر دیے گئے تو ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔ ان کے بقول، ’ہم غریب لوگ ہیں، اگر رکشہ بند ہو گیا تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا؟ حکومت کو ہمارے حالات بھی دیکھنے چاہییں۔‘

بعض ڈرائیوروں نے خدشہ ظاہر کیاکہ شاید کسی مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے میٹر لازمی کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ اگر ان کے رکشے ضبط کیے گئے تو وہ روزگار کے لیے چوری چھپے گاڑی چلانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

تاہم ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر صرف وہی رکشے چلنے دیے جائیں گے جن میں میٹر نصب ہوگا اور بغیر میٹر والے رکشوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا، کرایوں میں شفافیت لانا اور مسافروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ میٹر کی تنصیب کے لیے جلد مہلت اور ڈیڈ لائن کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جائے گا۔

دوسری جانب شہریوں کی ایک بڑی تعداد میٹر کے نظام کی حمایت کرتی دکھائی دی۔ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ بعض رکشہ ڈرائیور من مانے کرائے وصول کرتے ہیں اور ٹریفک قوانین کی بھی پابندی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق میٹر لگنے سے کرایوں میں شفافیت آئے گی اور مسافروں کو ریلیف ملے گا۔

تاہم کچھ شہریوں نے رکشہ ڈرائیوروں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت کو فوری پابندیاں لگانے کے بجائے ڈرائیوروں کو وقت دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: یو اے ای کی سڑکوں پر اب الیکٹرک رکشے دوڑتے نظر آئیں گے، حتمی منظوری کا انتظار

ان کا کہنا تھا کہ آٹو اور چنگچی رکشہ چلانے والے بھی عام لوگ ہیں جو دن بھر محنت کر کے اپنے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں۔

کراچی میں میٹر کے نفاذ کا معاملہ اب صرف ٹریفک قوانین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ شہری سہولت اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کے درمیان توازن کا ایک اہم سوال بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، متعدد زخمی

مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

عالمی سطح پر خواتین کرکٹ کی شاندار ترقی، ٹیلنٹ کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟