کراچی میں خونی ڈمپرز اور ٹینکرز کا راج جاری، پہیوں تلے کچلے جانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے شہریوں کو پانی فراہم کرنے والے ٹینکرز اور تعمیراتی ملبہ اٹھانے والے ڈمپرز اب موت کا دوسرا نام بن چکے ہیں۔ شہر کی مصروف شاہراہوں پر بلا خوف و خطر دوڑتی یہ موت کی سواریاں روزانہ کئی خاندانوں کے چراغ گل کررہی ہیں، جبکہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

نارتھ ناظم آباد کے رہائشی ماجد چند روز قبل جب اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ڈنر کے لیے بائیک پر نکلے تو سب کے چہروں پر خوشی تھی۔ کہنے کو تو ماجد ایک نجی بینک میں سیکیورٹی گارڈ تھے لیکن بچوں کی فرمائش پر انہیں باہر کھانا کھلانے لے گئے تھے، لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ خوشگوار لمحات زندگی بھر کے رنج و الم میں تبدیل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کراچی: ڈمپر کی ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر کی مشتعل ہجوم پر مبینہ فائرنگ

شپ اونرز کالج کے قریب رہائش پذیر یہ ہنستا کھیلتا خاندان جب لیاقت آباد کے علاقے سے گزر رہا تھا، تو پیچھے سے آنے والے ایک بے لگام اور تیز رفتار ڈمپر نے ان کی موٹر سائیکل کو کچل ڈالا۔ ڈمپر کا ہولناک ٹکراؤ اس پورے خاندان پر قیامت بن کر ٹوٹا۔ اس المناک حادثے میں ماجد کی اہلیہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ وہ خود اور ان کے معصوم بچے بھی ٹرک کے نیچے پھنس گئے اور بال بال بچے۔

اس حادثے نے نہ صرف ایک ہنستا کھیلتا گھرانہ اجاڑ دیا بلکہ معصوم بچوں کو عمر بھر کا روگ دے دیا۔ ڈھائی سالہ محمد نعمان، 5 سالہ محمد حمدان اور ساڑھے 6 سالہ محمد روحان اپنی والدہ کو اب بھی ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ جس ماں کا ہاتھ پکڑ کر وہ باہر کھانا کھانے نکلے تھے، وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔

اپنا سب کچھ کھو دینے والے ماجد نے سسکتے ہوئے بتایا کہ بچے کافی دنوں سے باہر کھانا کھانے کی ضد کررہے تھے، میں تو صرف ان کے چہروں پر خوشی دیکھنے نکلا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ لیاقت آباد کی یہ سڑک میری دنیا اجاڑ دے گی۔ میری اہلیہ چلی گئیں اور میرے معصوم بچے نعمان، حمدان اور روحان اب بھی اپنی ماں کو ڈھونڈتے ہیں اور راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں، ہماری زندگی ہمیشہ کے لیے ایک تاریک سرنگ بن چکی ہے۔

لائن کے پانی کا بحران اور ٹینکرز کی ناگزیر ضرورت

کراچی میں ٹینکر مافیا کی اس من مانی اور بے لگام دہشت کے پیچھے شہر کے بنیادی ڈھانچے کی وہ ناکامی ہے جس نے شہریوں کو ان کا یرغمال بنا دیا ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس صنعتی مرکز کو یومیہ قریباً 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، لیکن کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) سسٹم کی خرابیوں، بوسیدہ پائپ لائنز اور چوری کے باعث اس کا آدھا حصہ بھی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے بشمول ڈی ایچ اے، کلفٹن، نارتھ ناظم آباد، اورنگی اور بلدیہ ٹاؤن مہینوں تک لائن کے پانی سے محروم رہتے ہیں۔

حکومت اور بلدیاتی اداروں کی اس نااہلی نے واٹر ٹینکرز کو شہریوں کی ایک ناگزیر ضرورت بنا دیا ہے۔ جب تک سرکاری پائپ لائنز کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچانے کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوتا، شہری اپنی پیاس بجھانے کے لیے ان ٹینکرز کو منہ مانگے دام دینے اور ان کی بدمعاشی برداشت کرنے پر مجبور رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مافیا اب انتظامیہ کے قابو سے باہر ہو چکا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایک دن بھی ٹینکرز کی ہڑتال ہو جائے تو پورا شہر پانی کی بوند بوند کو ترس جائے گا۔

اعداد و شمار کا خوفناک سچ: روزانہ سے سالانہ بنیادوں پر بہتا خون

کراچی میں ڈمپرز اور ٹینکرز کی زد میں آ کر جاں بحق اور معذور ہونے والوں کی تعداد اب محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک مستقل انسانی المیہ بن چکی ہے۔ امدادی اداروں اور ریسکیو ذرائع کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق شہر کی سڑکوں پر روزانہ اوسطاً 4 سے 6 چھوٹے بڑے حادثات صرف ان بے لگام بھاری گاڑیوں (ڈمپرز اور ٹینکرز) کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر روز 2 سے 3 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اگر اس کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد مزید خوفناک ہو جاتی ہے، جہاں ہر ہفتے 30 سے 40 حادثات رپورٹ ہوتے ہیں اور قریباً 12 سے 15 قیمتی زندگیاں موت کی وادی میں چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر یہ قاتل ڈمپر اور ٹینکر مافیا 120 سے زیادہ مرتبہ قہر ڈھاتے ہیں، جس سے 50 سے زیادہ خاندان مستقل طور پر اجڑ جاتے ہیں۔ سالانہ سطح پر یہ مجموعی اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں، جہاں ایک سال کے دوران 1500 سے زیادہ حادثات میں 600 سے زیادہ شہری لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور سینکڑوں افراد ہمیشہ کے لیے معذور ہو کر بستر سے لگ جاتے ہیں۔ اسپتالوں کے ٹروما سینٹرز کے مطابق ان حادثات کا شکار ہونے والوں میں 70 فیصد سے زیادہ موٹر سائیکل سوار یا پیدل چلنے والے ہوتے ہیں۔

ڈمپر اور ٹینکر مافیا کا نیٹ ورک اور طاقتور گٹھ جوڑ

کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر انور خان کے مطابق، کراچی میں واٹر ٹینکرز اور ریت و بجری لے جانے والے ڈمپرز کا باقاعدہ کاروبار 1980 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا جب شہر میں پانی کا بحران بڑھا اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔ آغاز میں یہ سپلائی مخصوص اوقات تک محدود تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ آج شہر میں 15 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے ٹینکرز اور ڈمپرز چل رہے ہیں۔ ان گاڑیوں کے مالکان نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی یونینز اور نیٹ ورک اتنے مضبوط کر لیے کہ اب یہ ایک متوازی حکومت کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر کسی ایک ڈمپر یا ٹینکر کے خلاف کارروائی کی جائے تو یہ ہڑتال کرکے تعمیراتی کام اور پانی کی سپلائی معطل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور انتظامیہ کو بلیک میل کرتے ہیں۔

ماضی میں مختلف سیاسی اور شہری حکومتوں نے ان بھاری گاڑیوں کے روٹس اور اوقاتِ کار کو مخصوص کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار یہ مافیا اپنی طاقت کے بل بوتے پر انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہا۔

ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت اور کرپشن کا بازار

کراچی میں ٹریفک کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی آصف محمود کا کہنا ہے کہ اس بے لچک طاقت کے پیچھے شہری اداروں اور ٹریفک پولیس کی ملی بھگت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی کی سڑکوں پر چلنے والے زیادہ تر ڈمپرز اور ٹینکرز کے فٹنس سرٹیفکیٹ جعلی ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ڈرائیورز کی اکثریت کے پاس ہیوی لائسنس نہیں ہوتا، اور کئی تو کم عمر لڑکے ہوتے ہیں جو نشے کی حالت میں گاڑیاں چلاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس روزانہ کی بنیاد پر ان سے بھتہ وصول کرتی ہے، جس کے بعد انہیں تیز رفتاری اور غلط اوور ٹیکنگ کا پروانہ مل جاتا ہے۔

دوسری جانب شہری منصوبہ بندی کی ماہر ماہم اصغر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے بڑے شہروں جیسے نیویارک اور لندن میں بھاری ٹریفک کے لیے رات کے اوقات مخصوص ہوتے ہیں اور ان کے لیے الگ کوریڈورز بنائے جاتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ نیویارک اور لندن جیسے شہروں میں سخت قوانین کے تحت بھاری گاڑیوں کا دن کے وقت رہائشی علاقوں میں داخلہ مکمل بند ہوتا ہے، لیکن کراچی میں صبح کے وقت جب بچے اسکول اور لوگ دفاتر جا رہے ہوتے ہیں، یا شام کو جب فیملیز باہر نکلتی ہیں، یہ ڈمپرز اور ٹینکرز سڑکوں پر ریس لگا رہے ہوتے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

حادثات موٹرسائیکل سواروں کی غلط ڈرائیونگ کا نتیجہ ہے، ٹینکرز مالکان

معاملے کے دوسرے رخ کو جاننے کے لیے جب ایک مقامی واٹر ہائیڈرنٹ کے مینیجر رحیم داد سے بات کی گئی، تو ان کا سخت لہجے میں کہنا تھا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ ہم شہر کی تعمیراتی ضرورت اور پانی کی قلت کو پورا کرتے ہیں۔ سڑکوں پر حادثات صرف ہماری وجہ سے نہیں ہوتے، موٹر سائیکل والے بھی غلط طریقے سے کٹ مارتے ہیں۔ رہی بات پولیس کی، تو ہم ہر ماہ لاکھوں روپے کا خرچہ انتظامیہ کو دیتے ہیں، تب جا کر ہمیں روڈ پر چلنے دیا جاتا ہے۔ اگر حکومت ہمیں الگ راستہ دے دے تو ہمیں عام سڑکوں پر آنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔

تاہم متعلقہ اداروں کے اعلیٰ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان بھاری گاڑیوں کا خاتمہ یا ان پر کنٹرول اس لیے ممکن نہیں ہو پا رہا کیونکہ اس کاروبار سے روزانہ کروڑوں روپے کا کالا دھن پیدا ہوتا ہے جو اوپر تک جاتا ہے۔

نفسیاتی اثرات: خوف اور عدم تحفظ کا شکار معاشرہ

جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی پروفیسر ڈاکٹر رابعہ کے مطابق سڑکوں پر ڈمپرز اور ٹینکرز کی یہ دہشت اب شہریوں کی نفسیات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ جب ایک شہری گھر سے نکلتا ہے اور سڑک پر تیز رفتار ڈمپر کو اپنے برابر سے گزرتے دیکھتا ہے، تو اس کے اندر شدید خوف اور لاچاری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ماجد جیسے متاثرین اور ان کے معصوم بچے نعمان، حمدان اور روحان تو عمر بھر کے لیے ‘پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر’ (PTSD) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ خوف ہمارے معاشرے میں فرسٹریشن اور عدم تحفظ کو جنم دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں 100 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے باوجود ڈمپرز اور ٹرالرز سے متعلق کوئی فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟

کراچی کے عوام اب صرف دعوؤں اور تعزیتی بیانات سے تھک چکے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ڈمپرز اور ٹینکرز کے لیے فوری طور پر رات کے اوقات (رات 11 سے صبح 6 بجے تک) سخت قوانین کے ساتھ مقرر کیے جائیں، فٹنس کے بغیر گاڑیوں کو ضبط کیا جائے اور حادثے کے ذمہ دار ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ مالکان کے خلاف بھی قتلِ عمد کا مقدمہ درج کیا جائے۔

جب تک عملی اور سخت اقدامات نہیں کیے جائیں گے، کراچی کی سڑکوں پر معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا اور ماجد کے معصوم بچوں کی طرح کئی اور بچے بھی اپنی ماؤں کو ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، متعدد زخمی

مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

عالمی سطح پر خواتین کرکٹ کی شاندار ترقی، ٹیلنٹ کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟