اٹلی کے عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار یانک سنر نے جرمنی کے الیگزینڈر زیوریف کی سخت مزاحمت کے باوجود ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ کا سنگلز ٹائٹل برقرار رکھتے ہوئے اپنے کیریئر کا 5واں گرینڈ سلیم اعزاز جیت لیا۔
اتوار کو کھیلے گئے شاندار فائنل میں سنر نے ابتدا میں پہلا سیٹ ہارنے کے بعد زبردست واپسی کرتے ہوئے زیوریف کو 7-6، 6-7، 3-6 اور 4-6 سے شکست دے دی۔
فرانسیسی اوپن جیتنے کے بعد پہلی مرتبہ ومبلڈن کے فائنل میں پہنچنے والے زیوریف نے پہلے سیٹ میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے اپ سیٹ کی امید پیدا کر دی تھی، تاہم بعد ازاں سنر نے اپنے کھیل کا معیار بلند کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ومبلڈن فائنل، کھیل کی تاریخ کے مہنگے ترین ٹکٹ کی مالیت کیا ہے؟
24 سالہ سنر گزشتہ برس ومبلڈن سنگلز ٹائٹل جیتنے والے پہلے اطالوی کھلاڑی بنے تھے، جبکہ اب وہ پیشہ ورانہ دور میں ومبلڈن ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرنے والے صرف 10 کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ زیوریف کے خلاف سنر کی مسلسل 10ویں فتح بھی تھی، اگرچہ 29 سالہ جرمن کھلاڑی نے اس بار عالمی نمبر ایک کو سخت امتحان سے دوچار کیے رکھا۔
Sinner Retains Wimbledon crown pic.twitter.com/BWLs224MMr
— NerhoFC (@NerhoFC) July 12, 2026
زیوریف 1991 میں مائیکل اشٹش کے بعد ومبلڈن جیتنے والے پہلے جرمن مرد کھلاڑی بننے کے خواہاں تھے۔
میچ کے دوران زیوریف کی پہلی سروس انتہائی مؤثر رہی اور ان کے طاقتور فورہینڈ شاٹس نے سنر کو مسلسل دباؤ میں رکھا، دوسری جانب سنر نے بھی شاندار اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم مواقع پر اپنی برتری ثابت کی۔
تیسرے سیٹ میں اس وقت مقابلے کا رخ بدل گیا جب 3-3 کی برابری پر زیوریف ایک شاٹ تک پہنچنے کی کوشش میں بیس لائن کے قریب پھسل کر گر گئے۔
مزید پڑھیں: ٹینس کی ملکہ پھر میدان میں، سرینا ولیمز کی واپسی پر شائقین پُرجوش
اگرچہ انہوں نے کھیل جاری رکھا، تاہم اس کے بعد وہ پہلے جیسی روانی برقرار نہ رکھ سکے اور سنر نے ان کی سروس توڑ کر فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔
چوتھے سیٹ میں بھی زیوریف نے بھرپور کوشش کی، مگر سنر نے ایک طویل اور شاندار 23 شاٹس پر مشتمل ریلے جیت کر میچ پوائنٹ حاصل کیا اور پھر فاتحانہ فورہینڈ شاٹ کے ذریعے 3 گھنٹے 46 منٹ جاری رہنے والے مقابلے کا اختتام کر دیا، یہ گرینڈ سلیم مقابلوں میں سنر کی 100ویں کامیابی بھی تھی۔
فتح کے بعد یانک سنر نے کہا کہ ٹینس کھیلنے کے لیے ومبلڈن سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ ’اتوار کی صبح اٹھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ دن کتنا خاص ہے، اس لیے میں کبھی بھی ایسی کامیابی کو معمولی نہیں سمجھتا۔‘
Jannik Sinner lifts the gentlemen's singles trophy at Wimbledon once again 🔥 pic.twitter.com/rtm4Hoy663
— ESPN (@espn) July 12, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں نے اپنی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ’مجھے فتح پر خوشی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہم نے اتنے اعلیٰ معیار کا ٹینس کھیلا۔‘
دوسری جانب الیگزینڈر زیوریف نے شکست کے باوجود اپنے کھیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسی انداز کا ٹینس کھیلنا چاہتے ہیں۔
’۔۔۔ اور مجھے امید ہے کہ جتنا زیادہ اسی طرز پر کھیلوں گا، اتنا ہی بہتر ہوتا جاؤں گا۔‘
اگرچہ زیوریف کو اپنے کیریئر کے چوتھے گرینڈ سلیم فائنل میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فرانسیسی اوپن کا ٹائٹل جیتنے اور پہلی مرتبہ ومبلڈن کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد یہ ان کے کیریئر کا بہترین دور قرار دیا جا رہا ہے۔













