’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایم کیو ایم پاکستان کے اندر سینیئر رہنما خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال ان دنوں ایک دوسرے پر خوب لفظی گولہ باری میں مصروف ہیں، جس کا براہ راست اثر پارٹی اور کارکنان پر پڑرہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ جنگ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی جنگ ہے، لیکن اس سلسلے میں ایم کیو ایم ہی کے سینئر رہنما وسیم اختر الگ رائے رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟

سابق میئر کراچی و سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان وسیم اختر نے وی نیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں جو خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے مابین ہو رہا ہے، یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کے کارکنان سکون کا سانس لیں اور جس مقصد کے لیے پارٹی بنی تھی، اس مقصد کے لیے کام کریں، نہ کہ ہم بٹ جائیں۔ یہ پارٹی ذمہ داران کی ذمہ داری ہے کہ ان چیزوں سے اجتناب کریں اور پارٹی کی مضبوطی کے لیے اپنی طاقت لگائیں۔

اپوزیشن جب کمزور ہو تو کرپٹ حکومت کھل کر کھیلتی ہے

شہر کراچی کے حالات اور موجودہ حکومت کے حوالے سے وسیم اختر کا کہنا ہے کہ جب اپوزیشن کمزور ہو جاتی ہے تو پھر اس طرح کی کرپٹ ترین حکومت کھل کر کھیلتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کی گورنر شپ سے محروم ہونے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کیا سوچ رہی ہے؟

موجودہ میئر بیچارہ کچھ نہیں کرسکتا

وسیم اختر کا میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے حوالے سے یہ کہنا تھا کہ موجودہ میئر بیچارہ کچھ نہیں کر سکتا، موجودہ میئر اس شہر کے اندر ایک اینٹ بھی نہیں رکھ سکتا، کیوں کہ ان کی پارٹی کی پالیسی یہ ہے کہ کراچی کو ڈیولپ نہیں ہونے دینا ہے، سندھ کو ڈیولپ نہیں ہونے دینا ہے۔ لاڑکانہ اور سہون کا حال دیکھ لیں، اس کے بعد کراچی کی بات کیجیے گا۔

وسیم اختر کی درخواست کیا ہے؟

وسیم اختر کہتے ہیں کہ میں یہیں تھا، کہیں نہیں گیا تھا، اور میری درخواست ذمہ داران سے یہی ہو سکتی ہے کہ پارٹی کو طریقے سے لے کر آگے چلیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp