خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شہدا کے معاملے پر اس نوعیت کا بیان دینا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، ایک ذمہ دار سیاسی رہنما کو شہدا کے بارے میں ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کروڑ روپے لیکر اپنا بیٹا بھیج کر دکھائیں‘، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور فہیم گوہر بٹ کی مولانا فضل الرحمان پر شدید تنقید
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جب شہدا کے لواحقین کو زمین دی گئی تو اس فیصلے میں سابق وزیراعلیٰ اور مولانا فضل الرحمان کے قریبی افراد بھی شامل تھے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شہدا کو زمین دینے کے معاملے کو تنخواہ سے جوڑنا یا اس پر اس انداز میں بات کرنا شہدا اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہدا کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا کہ فوجی جوان عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں، اگر دورانِ ڈیوٹی کوئی شہید ہوتا ہے تو اس کے اہلخانہ کو سرکاری مراعات اور بعض صورتوں میں زمین بھی دی جاتی ہے، اس لیے اس پر احسان نہیں جتایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا، احسن اقبال کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر حکومتی شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر مملکت عون چودھری، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ شہادت کو تنخواہ یا مراعات سے جوڑنا شہدا اور ان کے اہل خانہ کی دل آزاری ہے اور مولانا فضل الرحمان کو اپنے الفاظ پر نظرثانی کرنی چاہیے۔














