وفاقی پارلیمانی سیکرٹری حافظ میاں محمد نعمان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟
حافظ میاں محمد نعمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ وہ دانش مند، معتبر مزاج اور نپی تلی گفتگو کرتے ہیں، تاہم قصور کے جلسے میں انہوں نے اداروں اور شہدا کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے، وہ قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اس بیان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہی ہے، خصوصاً تنخواہوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے ریمارکس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو تمام اسلامی سلطنتیں ایک منظم نظام کے تحت چلتی رہی ہیں، اس لیے تاریخی حقائق کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی
حافظ میاں محمد نعمان نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو افراد تنخواہ لیتے ہیں انہیں خدانخواستہ ‘کرائے کی فوج’ کہا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے الفاظ واپس لیں اور قوم، شہدا کے لواحقین اور پاکستان کی افواج سے معافی مانگیں۔














