خیبرپختونخوا حکومت کو سوات کی سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ ارسال کر دی گئی ہے جس میں پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ٹورازم اتھارٹی، ٹی ایم ایز اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: کالام جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق، 4 لاپتا
حکومتی ذرائع کے مطابق سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے جس میں حادثے کے مختلف پہلوؤں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ٹورازم اتھارٹی اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہ کر سکے جبکہ ٹی ایم ایز، انڈسٹریز اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت سوات میں دفعہ 144 نافذ تھی جس کے تحت کشتی رانی اور جھیل میں نہانے پر پابندی عائد تھی تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس پابندی پر مؤثر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 103 مقدمات درج کیے تاہم یہ مقدمات کشتی رانی کے بجائے صرف جھیل میں تیرنے والوں کے خلاف درج کیے گئے۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی کے بعد بارشوں کی دستک، پشاور میں ہیٹ انڈیکس 60 ڈگری کے قریب
ذرائع کے مطابق حادثے والے روز ٹورازم پولیس کے 37 اہلکاروں میں سے 17 چھٹی پر تھے جبکہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچنے اور واپسی کے دوران 2 مرتبہ خراب ہو گئی جس سے امدادی کارروائیوں پر بھی اثر پڑا۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کالام اسپتال میں جاں بحق افراد کی لاشوں کے معائنے کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر موجود نہیں تھی۔
انکوائری کمیٹی نے آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے متعدد سفارشات بھی پیش کی ہیں۔ کمیٹی نے تمام کشتیوں کی لازمی رجسٹریشن، غیر رجسٹرڈ کشتیوں کو پانی میں جانے سے روکنے، ہر کشتی میں لائف جیکٹس کی موجودگی یقینی بنانے اور جہاں دفعہ 144 نافذ ہو وہاں اس پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کرانے پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پگھلتے گلیشیئرز و بار بار آنے والے سیلاب، سوات موسمیاتی بحران کی زد میں
واضح رہے کہ یکم جولائی کو سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں 7 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔














