پگھلتے گلیشیئرز و بار بار آنے والے سیلاب، سوات موسمیاتی بحران کی زد میں

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پگھلتے گلیشیئرز اور بار بار آنے والے سیلاب نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا بلکہ مقامی آبادی کی زندگی، ثقافت اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

27 جون کو حکام نے سوات سمیت خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع کے لیے گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) کا الرٹ جاری کیا۔ انتباہ میں کہا گیا کہ شدید گرمی کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے لگے، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

حکام نے دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے آباد آبادیوں کو محتاط رہنے، انخلا کی تیاری مکمل رکھنے اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی، تاہم سوات کے مکینوں کے لیے یہ صرف ایک وارننگ نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی تھی۔

ماہرین کے مطابق دریائے سوات ہمیشہ سے اپنا راستہ تبدیل کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی اور دریائی گزرگاہوں کے اندر بڑھتی تعمیرات نے خطرات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔

سپارکو کے اسپیس فور کلائمیٹ پلیٹ فارم سے جاری سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق بحرین کے علاقے میں 2010 سے 2022 کے دوران دریائے سوات کے قدرتی سیلابی میدانوں میں نمایاں تعمیرات ہوئیں، جس کے باعث پانی کے قدرتی بہاؤ کا راستہ محدود ہو گیا۔ اگست 2022 کے تباہ کن سیلاب میں انہی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا۔

ایمرجنسی ایونٹس ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان گزشتہ 25 برسوں میں 89 بڑے سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ دریاؤں کے کناروں اور سیلابی میدانوں میں بے ہنگم تعمیرات کے باعث ان آفات کے اثرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

سپارکو سیٹلائٹ نگرانی کے ذریعے دریاؤں کے بہاؤ اور اردگرد زمین کے استعمال پر مسلسل نظر رکھتا ہے تاکہ سیلابی خطرات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات پر اجلاس، سیلاب کے دوران لائف جیکٹس اور رسیوں کی ترسیل کے لیے ڈرونز خریدنے کا فیصلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوات کے بالائی علاقوں، جن میں گبرال، مانکیال، مٹلتان اور دارال شامل ہیں، میں 2010 کے بعد سے آنے والے مسلسل سیلابوں اور دیگر موسمیاتی آفات نے روزمرہ زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔

مقامی اساتذہ، سماجی کارکنوں اور ثقافتی ماہرین کے مطابق ان تباہیوں کے اثرات صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ لوگوں میں بے یقینی، نقل مکانی، ذہنی دباؤ، روایتی طرز زندگی میں تبدیلی اور ثقافتی شناخت کے کمزور ہونے کی صورت میں بھی سامنے آرہے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ثقافتی و لسانی محقق زبیر توروالی کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف انجینئرنگ منصوبے کافی نہیں، کیونکہ جب لوگ اپنے علاقوں سے بے دخل ہوتے ہیں تو ان کی زبانیں، یادیں اور ثقافتی روایات بھی خطرے میں پڑجاتی ہیں۔

اگست 2022 کے سیلاب نے شمالی پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے بعد دریاؤں کے کنارے تعمیرات، زمین کے استعمال اور آبی گزرگاہوں کے تحفظ پر نئی بحث شروع ہوئی۔ بعد ازاں سیٹلائٹ جائزوں سے بھی ثابت ہوا کہ متاثرہ عمارتوں کی بڑی تعداد دریائے سوات کے تاریخی سیلابی راستوں میں تعمیر کی گئی تھی۔

موسمیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں قدرتی نظام کے عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

حالیہ گلوف الرٹ کے بعد حکام نے شہریوں کو دریاؤں کے کنارے جانے سے گریز، ہنگامی انخلا کی تیاری اور مقامی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی تحفظ کے لیے سیلابی میدانوں میں تعمیرات پر سخت پابندی، بہتر منصوبہ بندی، دریاؤں کے قدرتی راستوں کا تحفظ اور مقامی آبادی کی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز گلگت بلتستان کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق سوات کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پہاڑ بدل رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور بھی ان تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق خود کو بروقت ڈھال پائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp