’کشمیر بنے گا پاکستان‘: 19 جولائی کی تاریخی قرارداد آج بھی زندہ، اہل کشمیر اپنے عزم پر قائم

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

19 جولائی کو ہر سال ’یوم الحاقِ پاکستان‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں ایک تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی، جس میں ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ اجلاس سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا تھا، جہاں کشمیری قیادت نے برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں ریاست کے مستقبل کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کا وکیل، آزاد اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، زاہد اقبال ہاشمی

آج یوم الحاق پاکستان کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری مختلف تقریبات، سیمینارز، ریلیوں، دعائیہ اجتماعات اور خصوصی پروگراموں کا انعقاد کررہے ہیں۔

ان تقریبات کا مقصد کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنا، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاست جموں و کشمیر ایک علیحدہ ریاست تھی، جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں تھی جبکہ حکمران مہاراجا ہری سنگھ تھا۔

برصغیر کی تقسیم کے دوران ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں۔ اسی تناظر میں 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے قرارداد الحاق پاکستان منظور کی، جسے پاکستان اور آزاد کشمیر میں کشمیری عوام کی سیاسی امنگوں کا تاریخی اظہار قرار دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں اکتوبر 1947 میں ریاست کے حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور تحریک آزادی کشمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پھر 24 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر کی نمائندہ حکومت کا اعلان کیا گیا۔

اس تنازع کے بعد کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں پہنچا، جہاں سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کیں۔ تاہم یہ مسئلہ آج بھی جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان و بھارت کے درمیان بنیادی اختلافات کا مرکز ہے۔

یومِ الحاق پاکستان کی اہمیت

یومِ الحاقِ پاکستان کو آزاد جموں و کشمیر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کے روز سرکاری عمارتوں پر قومی اور کشمیری پرچم لہرائے گئے ہیں، شہدا کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے، جبکہ کشمیری عوام اپنی سیاسی وابستگی اور حق خودارادیت کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔

کشمیر کا تنازع گزشتہ 7 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے مختلف سفارتی اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے باوجود یہ تنازع اب تک حل طلب ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

19 جولائی کا دن کشمیری عوام کی سیاسی تاریخ، ان کی جدوجہد اور ان کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تاریخی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال اس عزم کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کے مستقبل سے متعلق ان کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یومِ الحاقِ پاکستان: وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کر دیا

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے یوم الحاقِ پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 19 جولائی ہر سال اس تاریخی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

وزیراعظم نے کہاکہ یہ قرارداد برصغیر کی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی اجتماعی سیاسی امنگوں کی ترجمان تھی، جس میں ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور ڈوگرہ حکمرانوں پر عوامی خواہشات کا احترام کرنے پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ قرارداد آج بھی کشمیری عوام کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم تاریخی سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔

19 جولائی کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ہے، قائم مقام صدر آزاد کشمیر

آزاد جموں و کشمیر کے قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے یومِ الحاقِ پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہاکہ یہ دن کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ہے۔

انہوں نے کہاکہ 19 جولائی 1947 کو کشمیری قیادت نے متفقہ طور پر ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کرکے اپنے مستقبل اور قومی امنگوں کا واضح اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ آج کا دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کی ہے، اور ہم اس اصولی مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان سے محبت ہمارے ایمان، شناخت اور قومی غیرت کا حصہ ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ آج ہم یوم الحاقِ پاکستان منا رہے ہیں۔ 19 جولائی 1947 کو ریاست جموں و کشمیر کی مسلم قیادت نے کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تاریخی قرارداد منظور کی، جو آج بھی ہمارے قومی نظریے اور عزم کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سے محبت ہمارے ایمان، شناخت اور قومی غیرت کا حصہ ہے۔ کشمیری عوام نے اس رشتے کی خاطر بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر ثابت قدم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم، 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکیں۔ مسئلہ کشمیر کا واحد پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا کشمیریوں کی مستقل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری عوام اپنا حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور

19 جولائی یوم الحاق پاکستان کے موقع پر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس عزم کی تجدید کررہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بعد پوری ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق تک جدوجہد جاری رکھی جائےگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ریڈ فیوری‘ سے ’سیمفنی ان ریڈ‘ تک، اسپین عالمی فٹبال کا بے تاج بادشاہ کیسے بنا؟

مٹیاری کے قریب مال گاڑی حادثہ، اپ اور ڈاؤن ٹریک بند، ٹرین آپریشن 24 گھنٹے متاثر رہنے کا خدشہ

3 سال سے بھارت نہیں گئے، کرکٹر حسن علی کی اہلیہ کا بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ردعمل

فری لانسرز ملکی معیشت کا مضبوط سہارا بن گئے، ریکارڈ زرمبادلہ کما لیا

ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں فاتح ٹیم کو ٹرافی دینے کے لیے تیار

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ