آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں اب صرف 8 روز باقی رہ گئے ہیں۔ پولنگ کی تاریخ قریب آتے ہی ریاست بھر میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل کردی ہے، جلسوں، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم میں تیزی آگئی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے 45 میں سے 44 انتخابی حلقوں میں 27 جولائی 2026 کو پولنگ ہوگی، جبکہ سدھنوتی کے حلقہ نمبر 2 بلوچ میں ایک امیدوار اسمبلی کے انتقال کے باعث وہاں انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین کب ووٹ ڈالیں گے؟
الیکشن کمیشن نے انتخابی ڈیوٹی انجام دینے والے سرکاری ملازمین کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق انتخابی عملے اور ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین کی پولنگ 20 جولائی کو ہوگی تاکہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے باعث حق رائے دہی سے محروم نہ رہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق انتخابات میں 38 لاکھ 4 ہزار 368 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 20 لاکھ ایک ہزار 653 مرد اور 18 لاکھ 2 ہزار 715 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں میں سے 33 انتخابی حلقے آزاد جموں و کشمیر کے اندر واقع ہیں، جبکہ 12 حلقے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص ہیں، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
انتخابی عمل کو مؤثر اور منظم بنانے کے لیے آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں 6 ہزار 983 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان پولنگ اسٹیشنز کے اندر ووٹنگ کے عمل کو آسان اور تیز بنانے کے لیے 10 ہزار 913 پولنگ بوتھ بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹرز کو غیر ضروری انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد اس کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت انتخابی عملے کی تعیناتی، انتخابی سامان کی فراہمی، سیکیورٹی پلان اور دیگر انتظامی امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے روز امن و امان برقرار رکھنے اور انتخابی عمل کو پرامن ماحول میں مکمل کرانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار مختلف حلقوں میں انتخابی جلسوں اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔ پارٹی پروگرام کے مطابق وہ 21 جولائی کو مظفرآباد میں عوامی جلسہ کریں گے، جبکہ 24 جولائی کو میرپور میں بھی انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود ہوں گی، جبکہ کیپٹن (ر) صفدر سمیت دیگر رہنما پہلے ہی آزاد کشمیر میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی آزاد کشمیر میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکے ہیں اور ڈڈیال میں ایک عوامی جلسے سے خطاب بھی کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اب 19 جولائی کو کوٹلی، 21 جولائی کو مظفرآباد جبکہ 24 جولائی کو میرپور میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے، جس کی تیاریاں جاری ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 27 جولائی کو ہونے والے یہ انتخابات آزاد جموں و کشمیر کی آئندہ سیاسی قیادت کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ریاست کی مستقبل کی سیاسی سمت کا بھی تعین کریں گے۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مرکزی الیکشن کوآرڈینیشن سیل قائم کر دیا
یہی وجہ ہے کہ انتخابی سرگرمیاں روز بروز تیز ہوتی جا رہی ہیں، سیاسی جماعتیں آخری لمحات تک ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اس عزم کا اظہار کر رہا ہے کہ ہر ووٹر کو آزادانہ، منصفانہ اور محفوظ ماحول میں اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائےگا۔













