نئی دہلی: ’کاکروچ تحریک‘ کا پابندی کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کے روز نوجوانوں کی قیادت میں قائم ’کاکروچ تحریک‘ کے سینکڑوں حامی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوگئے ہیں۔

مظاہرین نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، اگرچہ پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

چند ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 2 ہفتوں سے جاری، وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ

تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی حاصل کیے ہیں اور ملک بھر میں نوجوانوں کو متحرک کیا ہے۔

تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ہفتے کے روز پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔

اس کے بعد ہزاروں افراد نئی دہلی کے جنتر منتر پہنچ گئے تاکہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے روز احتجاجی مارچ میں شرکت کر سکیں۔

جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

مظاہرین نے ’دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو‘ اور ’نریندر مودی استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگائے۔

یہ تحریک مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔

مزید پڑھیں: بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے باعث کمزور، زبردستی اسپتال منتقل

میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن کا کہنا تھا کہ طلبہ نہیں چاہتے کہ امتحانی پرچے لیک ہوں۔ ’اس بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہیے، اسی لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں۔‘

اتر پردیش کے ضلع امروہہ سے آئے 22 سالہ محمد تبریز نے، جو مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں، کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امتحانات میں ہونے والی بدعنوانی اور پرچے لیک ہونے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو۔

تحریک کو ابتدا میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی اور چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام پر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز ہو گئے، بعد ازاں بعض اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے دھرنا دے رہے ہیں، جبکہ سماجی کارکن سونم وانگچک نے 28 جون کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

پیر کو اسپتال سے جاری اپنے تحریری پیغام میں سونم وانگچک نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرے، یا مظاہرین کو پارلیمنٹ تک پہنچنے دیا جائے اور ارکانِ پارلیمنٹ یقین دہانی کرائیں کہ یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا جائے گا، تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کا ابھرنا بھارتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور بار بار پرچے لیک ہونے جیسے مسائل پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد تھی، تاہم 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 9.9 فیصد رہی۔

جبکہ شہری علاقوں میں یہ 13.6 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی

قومی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کل اسلام آباد میں ہوگی

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

عمران خان کی صحت کے متعلق افواہیں دم توڑ چکیں، پی ٹی آئی کے پاس اب اسٹریٹ پاور نہیں، شمائلہ رانا

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران، امریکا ایران تنازع خاتمے کے لیے اہم ملاقاتیں

ویڈیو

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ سے اتحاد تک، کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کو قبول ہوگا؟

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

کالم / تجزیہ

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا