سعودی عرب نے قومی پارکس کو ماحول دوست سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے مشرقی صوبے میں 7 نئے سرمایہ کاری مواقع متعارف کرا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں سے 700 ملین سعودی ریال سے زائد سرمایہ کاری، تقریباً 7 ہزار نئی ملازمتیں اور ملکی معیشت میں 2 ارب سعودی ریال سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے۔
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کامبیٹنگ ڈیزرٹیفکیشن نے مشرقی صوبے کے مختلف قومی پارکس میں 7 نئے سرمایہ کاری مواقع متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق یہ منصوبے 2 جولائی کو سعودی فیڈریشن آف چیمبرز کے تعاون سے اعلان کردہ 142 سرمایہ کاری مواقع کے وسیع پیکیج کا حصہ ہیں، جس میں نیشنل کمیٹی برائے ماحولیات، پانی اور زراعت بھی شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط
ادارے کے جنرل ڈیپارٹمنٹ برائے ترقی و سرمایہ کاری کی ڈائریکٹر جنرل ہدیٰ بنت عبداللہ البقامی نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد ماحول دوست اور پائیدار سیاحتی مقامات (ایکو ٹورازم) کو فروغ دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سرمایہ کاری مواقع کی نمایاں خصوصیت ان کا تنوع، مملکت کے مختلف علاقوں تک پھیلاؤ اور نجی شعبے کے اشتراک سے پائیدار ایکو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبے سعودی عرب کے قدرتی وسائل سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے میں مدد دیں گے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اعلان کردہ منصوبوں میں ایکو ٹورازم، تفریحی سرگرمیوں، عوامی تقریبات، سیاحتی خدمات، کیمپنگ، کارواں پارکس (Caravanning) اور زرعی سیاحت (Agri-tourism) جیسے شعبے شامل ہیں، جن کا مقصد قومی پارکس کو مقامی اور غیرملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔
یہ سرمایہ کاری پیکیج مملکت بھر میں 6 کروڑ مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط ہے، جبکہ منصوبوں کی سرمایہ کاری کی مدت 5 سے 25 سال تک رکھی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق ان منصوبوں میں 700 ملین سعودی ریال سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے 16 فیصد تک منافع اور 17 فیصد داخلی شرح منافع (Internal Rate of Return) کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 2 ارب سعودی ریال سے زائد کا اضافہ ہوگا، جبکہ تقریباً 7 ہزار نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق
ہدیٰ البقامی نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش کاروباری ماحول فراہم کرے گا بلکہ مقامی معیشت کو متحرک کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور مقامی آبادی کے لیے مفید معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
ان کے بقول، تمام سرمایہ کاری منصوبے ایسے فریم ورک کے تحت مکمل کیے جائیں گے جن میں قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں اور ماحول کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رہے اور یہ قدرتی مقامات آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ اور پائیدار رہیں۔














