برطانیہ میں سیاسی قیادت کی ایک اور بڑی تبدیلی کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے باضابطہ طور پر ملک کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم کا عہدہ آج سنبھالیں گے
برطانوی میڈیا کے مطابق وہ گزشتہ 10 برسوں میں برطانیہ کے 7ویں وزیراعظم بن گئے ہیں۔ شاہ چارلس سوم نے بکنگھم پیلس میں اینڈی برنہم سے ملاقات کے بعد انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی جس کے ساتھ ہی اقتدار کی منتقلی کا آئینی عمل مکمل ہوگیا۔
His Majesty received in Audience the Rt. Hon. Andrew Burnham MP and requested him to form a new Administration. The Rt. Hon Andrew Burnham MP accepted The King's offer and kissed hands upon his appointment as Prime Minister and First Lord of the Treasury. pic.twitter.com/QGXjt80Tbq
— The Royal Family (@RoyalFamily) July 20, 2026
56 سالہ اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے لیبر پارٹی کا بلا مقابلہ رہنما منتخب کیا گیا تھا جس کے بعد سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنا استعفیٰ شاہ چارلس سوم کو پیش کیا۔ برطانوی آئینی روایت کے مطابق حکمران جماعت اپنا رہنما تبدیل کرے تو عام انتخابات کے بغیر بھی نیا رہنما وزیراعظم بن سکتا ہے کیونکہ لیبر پارٹی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے۔
شاہ چارلس سے ملاقات، حکومت بنانے کی دعوت
پیر کی صبح کیئر اسٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ سے اپنی الوداعی تقریر کی، جس میں انہوں نے اقتصادی ترقی اور خالص امیگریشن میں کمی کو اپنی حکومت کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اینڈی برنہم کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وزیراعظم کا منصب ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا۔
مزید پڑھیے: اینڈی برنہم نئے برطانوی وزیراعظم، پیر کو حلف اٹھائیں گے، انہیں کون سے چیلنجز کا سامنا رہے گا؟
اس کے بعد اسٹارمر بکنگھم پیلس پہنچے جہاں انہوں نے شاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ ان کے روانہ ہونے کے بعد اینڈی برنہم شاہی محل پہنچے جہاں شاہ چارلس نے انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی باضابطہ دعوت دی۔ برطانیہ میں اس آئینی روایت کو ’کِسنگ ہینڈز‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ موجودہ دور میں اس موقع پر حقیقتاً ہاتھ چومنے کی روایت پر عمل نہیں کیا جاتا۔
شاہی ملاقات کے بعد اینڈی برنہم ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے قوم سے اپنا پہلا خطاب کیا اور ملک کے لیے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا۔
اینڈی برنہم کون ہیں؟
اینڈی برنہم اس سے قبل تقریباً 9 برس تک گریٹر مانچسٹر کے میئر رہے جہاں مسلسل 3 انتخابات میں کامیابی کے باعث انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ (شمال کا بادشاہ) کا لقب ملا۔
وہ اس سے پہلے سال 2001 سے سال 2017 تک رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور سابق وزرائے اعظم ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں مختلف وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکے ہیں۔
پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے انہوں نے حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی کیونکہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے رکن پارلیمنٹ ہونا لازمی شرط ہے۔
اقتدار سنبھالتے ہی بڑے چیلنجز
اینڈی برنہم کو ایسے وقت میں اقتدار ملا ہے جب برطانیہ کو مہنگائی، سست اقتصادی ترقی، قومی صحت کے نظام (این ایچ ایس) پر بڑھتے دباؤ، رہائشی بحران، غیر قانونی امیگریشن اور یورپ سے تعلقات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، برطانیہ کے اگلے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار
انہیں دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے اور اس کے رہنما نائجل فراج کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو آئندہ عام انتخابات سے قبل لیبر پارٹی کے لیے بڑا سیاسی چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔
اینڈی برنہم کا وژن کیا ہے؟
اپنی پہلی تقریروں میں اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ اختیارات کو صرف حکومت تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہریوں اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو ایسی نئی سیاست کی ضرورت ہے جس میں عوام کو دوبارہ امید ملے۔
ان کے مطابق گزشتہ چار دہائیوں میں برطانیہ نے غلط راستہ اختیار کیا، جب سیاسی اختیارات مرکز میں مرتکز کیے گئے جبکہ معیشت کا بڑا حصہ نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کے وزیراعظم کے لیے اینڈی برنہم کے نام پر غور، جانیں وہ کون ہیں؟
انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ سماجی نگہداشت، عوامی خدمات، رہائش اور مقامی معیشت کی بحالی جیسے بنیادی شعبوں میں اصلاحات کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اینڈی برنہم کے اقتدار سنبھالنے پر ردعمل دیا ہے۔
انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شمالی سمندر (نارتھ سی) میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے برنہم کے ممکنہ مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شمالی سمندر کے توانائی ذخائر برطانیہ کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں اور اگر ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو برطانیہ ایک ’غریب ملک‘ سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ اینڈی برنہم کو ’ایک شہر کا میئر‘ اور ’انتہائی لبرل‘ شخصیت قرار دے چکے تھے تاہم حالیہ دنوں میں انہوں نے ان کے بعض اقتصادی اشاروں کو مثبت قرار دیا۔
معاشی پالیسی پر سرمایہ کاروں کی نظریں
اینڈی برنہم کے اقتدار سنبھالنے سے قبل مالیاتی منڈیوں میں یہ خدشات موجود تھے کہ ان کی نسبتاً بائیں بازو کی معاشی پالیسیوں کے باعث حکومتی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی برقرار رہ سکتا ہے جبکہ دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا تو اس سے برطانیہ کی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں غیر یقینی سیاسی صورتحال، ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قیمت گرگئی
اینڈی برنہم کو اب نہ صرف اپنی انتخابی اصلاحات پر عمل درآمد کرنا ہوگا بلکہ انہیں برطانیہ کی معیشت کو مستحکم رکھنے، عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر امریکا سمیت اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی متوازن انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔














